خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 781 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 781

خطبات طاہر جلد 14 781 خطبہ جمعہ 20 /اکتوبر 1995ء صحابہ پر کرتا ہوں اور وہی دعائیں جو فرشتوں کی بتائی گئی ہیں وہی حضرت اقدس محمد رسول اللہ اور آپ کے صحابہ کی تھیں۔وہی تھے جو دن رات مومنوں کے لئے دعائیں مانگا کرتے تھے صلى الله ان کے لئے مغفرت طلب کرتے تھے اور محمد رسول اللہ ﷺ کے دل پر جس طرح صفات باری تعالی جلوہ گر ہوئی ہیں قرآن سے ثابت ہے کہ فرشتوں کے سردار پر بھی اس طرح صفات باری تعالی جلوہ گر نہیں ہوئیں۔ورنہ معراج کی شب حضرت اقدس محمد رسول اللہ لہ قرب الہی کے لحاظ سے اس مقام تک نہ پہنچتے جس پر جبرائیل نہ پہنچ سکا اور یہ محاورہ استعمال ہوا ہے کہ اس کے پر جلتے تھے آگے جاتے ہوئے اور پر صفات ہی کا نام ہے۔پس اگر طاقت سے بڑھ کر بوجھ پڑے تو اس کو یوں کہا جا سکتا ہے اس کی طاقتیں جل گئیں، اس میں طاقت نہیں رہی ، وہ بوجھ ایسا تھا جس نے کمر توڑ دی۔پس جو استعداد میں ملائکہ کو عطا نہیں ہوئیں ان استعدادوں سے تعلق میں صفات باری تعالیٰ کا حمل ان کے لئے ممکن ہی نہیں ہے۔ہاں وہ تمام صفات باری تعالیٰ جو انسانوں کے لئے بنائی گئیں ان پر بھی فرشتے مقرر ضرور ہیں کیونکہ وہ خدا کی نمائندگی میں ان صفات کی تیاری کے لئے قانون قدرت استعمال کرتے ہوئے انسان کو وہاں تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوئے۔باوجود اس کے کہ ان صفات کا ذاتی تجربہ اور فہم ان کو پیدا نہیں ہو سکتا تھا مگر اللہ کے امر سے وہ ایسا کرنے پر مجبور ہوئے اور یہی وہ منظر کشی ہے جو ابتدائے آفرینش سے متعلق قرآن کریم کھینچ رہا ہے کہ اللہ نے جب ذکر کیا کہ میں خلیفہ بنانے والا ہوں تو فرشتوں نے کہا خلیفہ بنائے گا تو یہ یہ کام کرے گا اور جب آدم کو خدا تعالیٰ نے وہ صفات سمجھائیں، وہ اسماء بتائے جن کا آدم سے تو تعلق تھا، فرشتے سمجھ نہیں سکتے تھے۔جب مقابل پر کھڑا کیا گیا تو فرشتوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔آدم نے وہ صفات بیان کی ہیں اور یہاں سب سے اول آدم کا معنی یعنی خلیفہ اللہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر صادق آتا ہے۔اس لئے جو بھی میں آپ کے سامنے یہ مضمون بیان کر رہا ہوں سو فیصدی قرآن پر مبنی اور قرآن کے ان اعلیٰ لطائف پر مبنی ہے جو رسول اللہ ﷺ کی شان کے شایان ہیں اور کسی اور وجود پر وہ پورے آہی نہیں سکتے۔پس ملائکہ کا اٹھانا اسی لئے لفظا ذ کر نہیں ہے۔ضمنا معنی کئے جاتے ہیں۔اس لحاظ سے کہ ہر طاقت پر فرشتے مامور ہیں اور اس کو چلا رہے ہیں لیکن ان کو پوری طرح نہ بھی سمجھیں تو خدا کے امر کے تابع مجبور ہیں