خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 779
خطبات طاہر جلد 14 779 خطبہ جمعہ 20 اکتوبر 1995ء عرش کو اٹھانے کے معنی خدا تعالیٰ کی صفات کو ظاہر کرتے ہیں۔چار صفات باری کا قیامت کے دن آٹھ ہونے کا مفہوم ( خطبه جمعه فرموده 20 /اکتوبر 1995ء بمقام بيت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ تلاوت کیں۔وَانْشَقَّتِ السَّمَاءِ فَهِيَ يَوْمَذِوَاهِيَةٌ وَالْمَلَكَ عَلَى أَرْجَابِهَا وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبَّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَذٍ ثَمُنِ لَا تَخْفَى مِنْكُمْ خَافِيَةٌ (الحاقہ : 1917) پھر فرمایا:۔يَوْمَذٍ تُعْرَضُونَ اللہ تعالیٰ کی صفات کے تعلق میں عرش کا کیا مفہوم ہے اس سلسلے میں دو خطبے پہلے گزر چکے ہیں اب یہ تیسرا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔میں نے بیان کیا تھا کہ قرآن کریم میں کہیں بھی واضح طور پر فرشتوں کے عرش اٹھانے کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ہاں استنباط کے طور پر ، تشریحی ترجمے کے طور پر یہ ترجمہ ضرور ملتا ہے کہ فرشتے وہ عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔اس ضمن میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تفسیر صغیر سے بھی حوالہ پیش کیا تھا کہ آپ نے بھی فرشتوں کے اٹھانے کا ذکر کیا ہے اس لئے کہیں کوئی اس مخمصے میں نہ پھنس جائے کہ گویا نعوذ باللہ میری بات میں اور حضرت مصلح موعود کی بات میں تضاد ہے۔کوئی تضاد نہیں بلکہ میں نے تو توجہ دلائی ہے کہ حضرت مصلح موعود فرشتوں کا جو مفہوم سمجھتے ہیں جس کو اپنی کتاب ملائکہ اللہ میں بیان کیا ہے اس کی رو سے یہ ترجمہ