خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 774
خطبات طاہر جلد 14 774 خطبہ جمعہ 13 اکتوبر 1995ء کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے آغاز آفرینش ہی سے پانی کو وہ صفات عطا کر دی تھیں جن سے زندگی پیدا ہوئی تھی ، جن سے شعور رونما ہونا تھا اور پھر اس شعور نے خدا تعالیٰ کی صفات کو دیکھنا تھا اور اس جلوہ گری کے لئے اپنے آپ کو اس کے حضور پیش کر دینا تھا۔یہ وجہ ہے جو عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ کا ذکر ہمیں قرآن کریم میں ملتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: وو چنانچہ ایک جگہ دل کو بھی عرش کہا گیا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی تجلی بھی دل پر ہوتی ہے اور ایسا ہی عرش اس وراء الوریٰ مقام کو کہتے ہیں جہاں مخلوق کا نقطہ ختم ہو جاتا ہے۔۔۔“ پس یہاں ان دونوں باتوں کو اکٹھا فرما دیا آپ نے۔اس لئے کوئی یہ نہ سمجھے کہ جو میں نے پچھلے خطبے میں قلب کا ذکر کیا تھا اور خصوصیت سے حضرت محمد مصطفی اے کے قلب کو خدا کی تخت گاہ بتایا تھا تو یہ ایک اپنے نفس کا خیال تھا، ایک فرضی بات تھی۔قرآن کریم واضح طور پر ، حضرت مسیح موعود ہ السلام فرماتے ہیں، قلب کو ایک جگہ عرش قرار دیتا ہے اور وہ قلب جہاں خدا جلوہ گر ہوا ہے یعنی ان صفات کا ملہ کے ساتھ جو اس سے پہلے کسی انسان نے نہیں دیکھی تھیں، اپنی کامل شان کے ساتھ نہیں دیکھی تھیں ، وہ محمد رسول اللہ نے کا دل تھا۔چنانچہ معراج کے وقت آپ کے دل کا یہ نقشہ کھینچا گیا ہے مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى (النجم : 13) اللہ نے محمد رسول اللہ اللہ کے دل کو جو کچھ دکھایا تھا یا اس دل نے جو کچھ دیکھا تھا معراج کی رات کو اس نے کوئی جھوٹ نہیں بولا۔یہ جو مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَای کا یہ مطلب نہیں کہ نعوذ باللہ من ذالک ، رسول اللہ ﷺ کا دل جھوٹ بول سکتا تھا تو نفی فرما دی گئی ہے۔اصل جو گہرا مفہوم ہے اس کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے دل نے صفات الہیہ کی جس جلوہ گری کو سمجھا ہے اس میں کہیں بھی غلطی نہیں کی۔ایک انسان کے دل پر خدا جلوہ گر ہوتا ہے، معمولی رنگ میں ہر ایک کے دل پر جلوہ گر ہو جاتا ہے کیونکہ وہ باشعور ہے، وہ پانی سے پیدا کیا گیا ہے، اس کو یہ صفات عطا ہوئی ہیں کہ وہ خدا کا تصور باندھ سکے مگر اکثر انسان غلطی کر جاتا ہے۔جلوہ ہو بھی تو سمجھنے میں غلطی کر جاتا ہے اور اسی وجہ سے اختلاف مذاہب پیدا ہوتے ہیں۔مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأی کا مطلب ہے کہ محمد رسول اللہ اللہ