خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 775
خطبات طاہر جلد 14 775 خطبہ جمعہ 13 اکتوبر 1995ء کے دل نے جو کچھ دیکھا بعینہ وہی سمجھا جو دکھایا گیا تھا، ایک ذرے کی بھی غلطی نہیں کی۔پس جب رسول الله صفات باری کا بیان کریں تو کامل یقین کے ساتھ اس پر ایمان لاؤ، اس کو درست سمجھو کیونکہ اس دل میں نا سمجھی اور غلط نہی کے نتیجے میں بھی غلط بیان کرنے کا ملکہ ہی نہیں پیدا کیا گیا۔خدا نے بنایا ہی نہیں یہ دل ایسا جو غلط سمجھ کر بات کر دے اور عملاً وہ جھوٹ نکلے۔تو اب دیکھئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔۔۔عرش اس وراء الوریٰ مقام کو کہتے ہیں جہاں مخلوق کا نقطہ ختم ہو جاتا ہے۔۔۔“ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا معراج بھی وہاں تک ہوا تھا جہاں مخلوق کا نقطہ ہو جاتا ہے اور اس سے پرے خدا کی تنزیہی صفات تھیں۔پس اس سے ورے ورے اگر کوئی عرش تھا صلى الله جس نے خدا کی صفات کو اٹھایا ہوا تھا تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تھے۔فرشتوں کا کہاں ذکر ملتا ہے وہاں۔نہ قرآن میں نہ حدیث میں۔حدیث میں یہ تو ملتا ہے کہ حضرت جبرائیل کے پر جلتے تھے وہاں تک پہنچنے سے جہاں آنحضرت ﷺ کا معراج ہوا۔کائنات کی ہر دوسری چیز پیچھے رہ گئی تھی۔اتنی قطعی حدیث جو قرآنی آیات کی قطعی طور پر، واضح طور پر تشریح فرما رہی ہے اس کے مقابل پر ان حدیثوں کو کون دیکھے گا جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کانہیں فرشتوں کا سر تھا جو عرش تک ہی نہیں پہنچا عرش کو پھاڑ کر اوپر نکل گیا تھا اس تنزیہی مقام میں داخل ہو گیا جہاں خدا کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: وو۔۔۔اہل علم اس بات کو جانتے ہیں کہ ایک تو تشبیہہ ہوتی ہے اور ایک تنزیہہ ہوتی ہے۔مثلاً یہ بات کہ جہاں کہیں تم ہو وہ تمہارے ساتھ ہے اور جہاں پانچ ہوں وہاں چھٹا ان کا خدا ہوتا ہے۔یہ ایک قسم کی تشبیہہ ہے جس سے 66 دھو کہ لگتا ہے کہ کیا خدا پھر محدود ہے۔۔۔پانچویں کے ساتھ چھٹا ہو گیا جہاں کہیں کوئی ہوا وہاں خدا چلا گیا فرمایا ہر گز نہیں یہ مراد نہیں ہے۔”۔۔۔اس لئے اس دھوکا کو دور کرنے کے لئے بطور جواب کے کہا گیا ہے کہ وہ تو عرش پر ہے جہاں مخلوق کا دائرہ ختم ہو جاتا ہے۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ: 382)