خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 770 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 770

خطبات طاہر جلد 14 770 خطبہ جمعہ 13 اکتوبر 1995ء یہ مفہوم سمجھتا ہوں اگر آپ اس کا دوسرا مفہوم سمجھتے ہیں آپ کے مفہوم کو میں رد کرتا ہوں کیونکہ قرآن اور حدیث اور کلام الہی کا انداز اس حقیقت کو رد کر رہا ہے اور کلام الہی میں واضح قطعی طور پر کسی فرشتے کا آسمان کو ، عرش کو اٹھانے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔اب سنئے احادیث۔صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے۔اب اللہ کا دایاں ہاتھ خود بتارہا ہے کہ یہ باتیں اور عرش کا مضمون اور اٹھانے کا مضمون یہ سب معنوی باتیں ہیں اس کو جسمانی قرار دینا بالکل غلط اور حدیث کے مزاج کے ہی مخالف ہے۔فرماتے ہیں اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے اس میں سے بغیر کسی وقفہ کے خرچ کرتے چلے جانا کوئی بھی کمی نہیں کر سکتا۔کیا تم دیکھتے نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش سے اب تک کیا کچھ خرچ کیا لیکن اس خرچ نے بھی اس کے دائیں ہاتھ میں ذرہ بھر کمی نہیں آنے دی اور اس کا عرش پانی پر ہے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں فیض ہے یا فرمایا کہ اس کے دوسرے ہاتھ میں قبض ہے، یہ راوی کو شک ہے۔وہ بلند کرتا ہے اور نیچے گراتا ہے یعنی اٹھانا اور گرانا اللہ کا کام ہے خود اس کو کسی نے نہیں اٹھایا ہوا۔( صحیح بخاری کتاب التوحید باب وكان عرش على الماء ) اور یہاں پانی پر عرش کہنا صاف بتاتا ہے کہ یہ حدیث مبنی بر قرآن ہے کیونکہ قرآن کریم میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے تخلیق کا ذکر کرتے ہوئے وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ (صور: 8) کہ اس سے پہلے اس کا عرش الماء پر تھا۔اب یہ تشریح کہ الْمَاء سے کیا مراد ہے جس پر اللہ کا عرش تھا یہ تو میں ابھی آپ کو بتاؤں گا لیکن ایک بات تو قطعی ہو گئی کہ الْمَاء فرشتے تو نہیں ہیں اور پانی نے اگر عرش اٹھایا ہوا ہے تو پانی نے اٹھایا ہوا ہے تو ساتھ ہی اللہ یہ فرمارہا ہے کہ ہر چیز وہ اٹھاتا ہے۔وہی گراتا ہے تو پھر پانی کس طرح نے اٹھایا ہوا ہے۔اگر ظاہری پانی مراد لیا جائے تو جب یہ سوال اٹھتا ہے کس نے اٹھایا ہوا ہے تو پھر آپ کو اس قسم کی حدیثیں ملیں گی جو بیہقی میں مثلاً کثرت سے ہیں کہ نیچے اس کی گہرائی میں زمین ہے زمین کے نیچے بیل ہے بیل کا ایک سینگ وہ سینگ زمین کو اٹھائے ہوئے ہے اس کے اوپر عرش الہی پھر اس کے اوپر خدا تعالیٰ اور جب وہ سینگ بدلتا ہے تو زلزلہ آ جاتا ہے۔وہ لوگ جو کہانی پرست ہوتے ہیں، جو ظاہر پرست ہیں، وہ مفہوم سمجھنے کی بجائے خواہر کو پکڑ بیٹھتے ہیں اور اس سے مفاہیم کا حلیہ بگاڑ کے رکھ دیتے ہیں۔پس سب سے پہلے تو نظر اس بات پہ ہونی