خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 738
خطبات طاہر جلد 14 738 خطبہ جمعہ 29 ستمبر 1995ء طرح ایک تو جماعت کا سالانہ جلسہ ہے پھر مجلس انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ کے جلسے تنزانیہ میں ہورہے ہیں پھر سپین کا گیارھواں جلسہ ہے۔ان سب ممالک کو مخاطب کر کے میں خصوصیت سے یہ نصیحت کر رہا ہوں کہ اندرونی طور پر اس وقت ایک ہونے کا وقت ہے۔دشمن اذیت پہنچائے گا مگر صبر میں ایک دوسرے کے ساتھ کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔اللہ کا ساتھ ہو، مومنوں کا ساتھ ہو تو پھر صبر کا بڑا حوصلہ نصیب ہوتا ہے۔وہ لوگ جو اپنی بدتمیزیوں اور کم حوصلگی کی وجہ سے نظام جماعت میں رخنہ ڈال دیتے ہیں اور ان کے دیکھا دیکھی دوسرے سر بھی تکبر سے اٹھنے لگتے ہیں وہ ایسا گہرا نقصان پہنچاتے ہیں جماعت کو کہ اس کے نتیجے میں جماعت کی عمومی ترقی پر اثر پڑ جاتا ہے کیونکہ اندرونی جھگڑوں میں مبتلا لوگوں کی اجتماعی قوت غیر معمولی طور پر کم ہو جاتی ہے۔اس لئے نیک لوگ ہونے کے باوجود، اکثر بہت نیک ہونے کے باوجود، جہاں چند فسادی ایسی باتیں شروع کر دیں وہاں تو جہات بٹ جاتی ہیں وہاں سے برکتیں اٹھ جاتی ہیں۔بعض دفعہ نیکی کے نام پر امیر سے سوال ہوتے ہیں مجلس عاملہ ہورہی ہے فلاں پیسے کا کیا بنا؟ فلاں پیسے کا کیا بنا؟ اول تو وہ جو Tone ہے بدتمیزی کی ہے اگر شک ہے کہ امیر دیانت دار نہیں ہے تو تمہارا کام ہے کہ مجھے توجہ دلاؤ۔امیر کو عزت کے ساتھ ، احترام کے ساتھ جیسے شیشہ دیکھنے والے کو اپنی تصویر دکھاتا ہے، ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے نہیں، اس کو بتاؤ کہ مجھے ڈر ہے کہ اس قسم کے مالی حالات میں بعض لوگ بیمار طبیعتیں شک میں مبتلا ہوں گی ان کی اصلاح فرمائیے اور وضاحت کر دیں اگر آپ مناسب سمجھتے ہیں اور اگر اس کے باوجود وہ تسلی نہ دلا سکے تو فرض ہے، صرف یہ شکایت نہیں رہے گی پھر یہ فریضہ ہے جماعت کی امانت کا کہ امیر کی معرفت آپ بالا افسران کو توجہ دلائیں کہ امیر کے مقام اور مرتبے کے لحاظ سے مالی معاملات میں اگر شبہات بھی پیدا ہو جائیں تو جماعت کو نقصان پہنچے گا۔یہ جائز ہے اس میں کوئی بدتمیزی نہیں ہے، کوئی بداخلاقی نہیں ہے۔مگر اگر نشانہ بنایا جائے اس کو تضحیک کا خواہ الفاظ تضحیک کے نہ بھی استعمال کئے جائیں، عاملہ میں اس کا وقار بر باد کر دیا جائے یا کھلی جماعت میں ایسے سوال کر کے اس پر شک کے سائے ڈالے جائیں جبکہ بسا اوقات اس وقت اس کو موقع ہی نہیں ہوتا کہ وہ تفصیل سے اپنا دفاع پیش کر سکے ، نہ اس کے لئے مناسب ہے کیونکہ یہ ایک تحقیر کی بات ہے، تذلیل کا سلوک کیا ہے۔اس کا صرف اتنا کام ہے کہ وہ کہے کہ آپ کی بات جو