خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 737
خطبات طاہر جلد 14 737 خطبہ جمعہ 29 ستمبر 1995ء دیکھنے اور ٹیلی ویژن کے پروگرام دیکھنے میں صرف ہو رہی ہوتی ہے دین کی خدمت کی توفیق نہیں ملتی۔مالی قربانی کا کہا جائے تو ہزار نفس کے بہانے ان کو گھیر لیتے ہیں کہ دیکھو جی ہمیں خدا نے دیا ہے۔یہ لوگ جو ان کے نزدیک ادنی اور معمولی آدمی ہیں کوئی خاص توفیق نہیں ہے چار آنے انہوں نے اگر دے دیئے تو کیا فرق پڑتا ہے اور ہمارے Jelous ہو گئے ہیں، ہم سے حاسد ہو گئے ہیں، وہ سمجھ رہے ہیں کہ جب تک ہمارے مال پر ہاتھ نہ ڈال بیٹھیں اس وقت تک ان کی انا کی طلب پوری نہیں ہوگی اس لئے خدا کی خاطر نہیں کر رہے یہ ویسے ہی ہماری دولت سے جلتے ہیں۔اس قسم کے مخفی خیالات ہیں میں جانتا ہوں کہ کھلم کھلا یہ خیالات ان کے دماغ میں نہیں آتے۔مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ بصیرت بخشی ہے کہ میں انسانی فطرت کی باریکیوں تک اتر کر خدا کے عطا کردہ تقویٰ کی نظر سے دیکھتا ہوں اور تقویٰ کی آنکھ سے اگر دیکھا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا وعدہ ہے کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔پس کسی کو ذاتی طور پر ماہر نفسیات ہونے کی ضرورت نہیں ہے اگر وہ تقویٰ کی آنکھ سے دیکھے گا تو اندر کے سارے حال روشن دکھائی دینے لگتے ہیں جیسے باہر کی چھاتی اور باہر کا سر درمیان سے غائب ہو گئے ہیں ، دماغ کے خیالات پر نظر پڑ رہی ہے، چھاتی کے اندر ہونے والے جذبات پر نگاہ پڑ رہی ہے اس طرح صاف دکھائی دینے لگے ہیں، تو بیچ میں سے سوچتے ہیں کہ ہمیں تو خدا نے توفیق دی ہے اس لئے کہ ہم نے محنت سے کمایا ہے اور یہ شک کر رہے ہیں کہ ہم چندہ بچار ہے ہیں ، یہ اعتبار نہیں کرتے کہ جو ہم دے رہے ہیں یہ اس کے مطابق ہے۔ہم نے ان کے ڈر سے دینا ہے، اللہ کے تقویٰ سے ہم دینا ہے اور تقویٰ کی باتیں امیر کے منہ پہ مارتے ہیں جو ان میں سب سے بڑا متقی ہوتا ہے، جس کی ساری زندگی اخلاص میں کئی ہوتی ہے۔بڑھ بڑھ کر اس کے سامنے باتیں کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ انہوں نے اپنا انتقام لے لیا ہے نظام جماعت سے، ان غریبوں سے جن کو عہدے عطا ہوئے ان امیروں نے انتقام لے لیا جن کو عہدے نہیں ملے تھے جن کے تقویٰ کی نگرانی ان کے سپرد ہوئی تھی۔یہ ساری وہ باریک راہیں ہیں جن میں ناکام ہونے والے زندگی کے ہر امتحان میں ناکام ہو جائیں گے۔ان کی زندگی بھی نامرادی کی ہوگی ، ان کی موت بھی نامرادی کی ہوگی اور جماعت کو ایسے لوگوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ماریشس نے بھی مجھ سے درخواست کی ہے کہ ان کے اجتماع کا اب اعلان کروں اور اسی