خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 739 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 739

خطبات طاہر جلد 14 739 خطبہ جمعہ 29 ستمبر 1995ء مجھے پہنچائی گئی ہے میں خلیفہ مسیح کی خدمت میں پہنچادوں گا اور بتاؤں گا کہ مجھ پر یہ شک ہے اور میں مطالبہ کروں گا کہ میری تحقیق کروائی جائے اس سے بہتر جواب وہ کوئی نہیں دے سکتا۔مگر وہ جماعت کے سامنے بار بار ہر الزام کی وضاحت کرنے کا نہ پابند ہے، نہ میں اس کو اجازت دوں گا کیونکہ اس سے امیر کا وقاراٹھ جائے گا۔ہر دو کوڑی کا آدمی اٹھ کے لاکھوں کے الزام لگانے لگے گا اور بار باراس قسم کی باتیں اگر جماعت میں ہوں تو جماعت کے اندر عدم استحکام پیدا ہو جاتا ہے۔اس لئے امیر کی حمایت میں اسی طرح کروں گا جس طرح حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنے امراء کی حمایت کی تھی ایک ذرہ بھی میں کسی قسم کے خوف میں مبتلا نہیں ہوں گا لیکن جماعت کی حمایت بھی اسی طرح کروں گا جس طرح حضرت محمد رسول اللہ اللہ نے اپنے امراء کے مقابل پر ان کی حمایت کی ہے جن کی حق تلفی کا خطرہ پیدا ہوا۔اس لئے تمہیں خوف کیا ہے؟ اگر امیر کے ساتھ عزت کا سلوک کرو گے تو تمہارا کوئی نقصان نہیں ہے۔اگر امیر کے متعلق یہ خطرہ محسوس کرتے ہو کہ اس نے تمہاری حق تلفی کی ہے تو اول تو احسان کا سلوک کرو جیسا قرآن نے حکم دیا ہے اور دوسرے تمہاری حق تلفی کا محافظ بھی خدا نے مجھے بنایا ہے جہاں تک مجھ میں طاقت ہے میں ہمیشہ یہی کرتا ہوں۔کبھی میں نے کسی امیر کو اجازت نہیں دی کہ جماعت کے ساتھ بدسلوکی کرے یا اس کی حق تلفی کرے تو پھر آپ کو کیا خطرہ ہے۔وہاں بد تمیزیاں کرنے کی بجائے، بجائے اس کے کہ اپنے ایمان کو ضائع کریں اور جماعت کے عمومی مفاد کو نقصان پہنچائیں اور صبر سے ہاتھ دھو بیٹھیں اور صبر کے پھلوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں یہاں تک کہ خدا پر آپ کا تو کل نہ رہے اور خدا آپ کا وکیل نہ رہے اس کے بدلے یہ سیدھی سادھی ایمان کی صاف راہیں ہیں یہ میں آپ کو دکھا رہا ہوں۔ان سب جماعتوں کو میری یہی نصیحت ہے کہ ان پر عمل کریں۔تنزانیہ کے متعلق اتنا ضرور کہوں گا آخر پر کہ تنزانیہ کی جماعت میں اللہ کے فضل سے وہ انقلاب بر پا ہونا شروع ہو چکا ہے جس کے متعلق میں مشرقی افریقہ کو بار بار ہدایت دیتارہا ہوں ابھی تک ماریشس سے اس انقلاب کی خوشبو نہیں آئی۔مگر وہ جماعت ، وہ ملک جہاں کبھی سال میں بھی دو تین سو سے زیادہ بیعتیں نہیں ہوتی تھیں۔اب انہوں نے پوری ہدایت پر عمل کر کے کام جو شروع کیا ہے تو ہزار ہا بیعتیں پہلے مہینے ہی میں ہو چکی ہیں ان کی اور یہ سلسلہ بڑھ رہا ہے اور اس بہانے سے میں