خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 734
خطبات طاہر جلد 14 734 خطبہ جمعہ 29 ستمبر 1995ء یہ کیا، ہمارا یہ حق تھا تم نے نظر انداز کیا ہے اور وہ دراصل ماں باپ کا جو وسیع تر مضمون ہے اس کو پیش نظر نہیں رکھتے۔امیر خدا کے نظام کا نمائندہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے متعلق فرمایا ہے جو دنیا میں خدا کے نمائندہ ہیں کہ اگر تمہیں آنحضرت ﷺ کا ماں باپ سے زیادہ اقرباء سے زیادہ ادب نہیں ہے، اگر ان سے زیادہ تم ان سے محبت نہیں کرتے تو تمہیں پتا ہی نہیں ایمان کیا چیز ہے۔پس ایک ماں باپ وہ ہیں جو دنیاوی رشتوں کے ماں باپ ہیں وہاں جب خدا تعالیٰ ، احسان کی تعلیم دیتا ہے باوجود اس کے کہ ممکن ہے ان کے لئے یہ عام احتمال ہے کہ انہوں نے عدل کا دامن چھوڑ دیا ہواولاد کے سلوک میں پھر بھی احسان فرمایا۔تو محمد رسول اللہ اللہ جو خدا کے بعد سب سے بڑے محسن اعظم تھے ان کے متعلق یہ تعلیم دی ہے کہ ماں باپ کیا چیز ہیں اگر تم نے ان سے بڑھ کر ان سے محبت نہ کی اور ان سے بڑھ کر ادب نہ کیا تو تمہیں پتہ ہی نہیں کہ ایمان کیا ہوتا ہے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی نمائندگی میں جو امیر بنتا ہے، جو کسی ذمہ داری کو اٹھاتا ہے، اس کے ساتھ درجہ بدرجہ اس رنگ کا سلوک ہونا ضروری ہے۔وہاں برابری کے جھگڑے نہیں ہوا کرتے وہاں احسان والا معاملہ کم سے کم ضروری ہے۔چنانچہ آنحضرت نے اسی تعلق میں یہ فرمایا ومن عصی امیری فقد عصانی و من عصاني فقد عصى الله (مسلم کتاب الامارہ حدیث نمبر: 3416) جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی ہے اس نے میری نافرمانی کی ہے، جس نے میری نافرمانی کی ہے اس نے اللہ کی نافرمانی کی ہے۔اب اگر کوئی امیر اٹھ کر یہ کہہ دیتا کہ دیکھو رسول اللہ ﷺ کے متعلق یہ حکم ہے اس لئے میری بات مانو مجھ سے بھی حسن سلوک کرو تو لوگوں نے کہنا تھا بڑا بنا پھرتا ہے رسول اللہ۔تمہاری کیا بات ہے، تمہاری حیثیت کیا ہے؟ کہاں تم کہاں حضرت اقدس محمد مصطفی سید الاول والا خرما ، آپ کا مقام کہاں، تو کس باغ کی مولی ہے۔کیا بات کر رہا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور ان کے ادب کی تعلیم ہے میں بھی نمائندگی کر رہا ہوں اس لئے میرا بھی کرو۔مگر وہ تو نہیں کہہ سکتا تھا محمد رسول اللہ ﷺ نے کہا ہے اور آپ نے اس مضمون کو جوڑ دیا ہے خدا کے ساتھ اور انکسار کا ایک عجیب مضمون ظاہر فرمایا ہے۔فرمایا ہے اللہ نے جب میری اطاعت کا حکم دیا، اللہ نے جب مجھ سے پیار کا ارشاد فرمایا تو میری ذات تو کچھ بھی نہیں، وہی مضمون ہے جو پہلے بیان ہو چکا ہے، جس کی تلاوت میں پہلے کر چکا ہوں کہ احسان ہے جو چن لیا ہے مگر جب اللہ سے میں باندھا گیا تو پھر جو مجھ