خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 735 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 735

خطبات طاہر جلد 14 735 خطبہ جمعہ 29 ستمبر 1995ء سے کاٹا جائے گا وہ خدا سے کاٹا جائے گا اور جو امیر مجھ سے باندھا گیا ہے اس کی بھی خواہ کوئی بھی حیثیت نہ ہو جب وہ مجھ سے باندھا گیا تو اس سے باندھا گیا ہے جو خدا کے ساتھ باندھا گیا ہے۔اس کے ساتھ اگر تم نے نا انصافی کی اور ظلم کیا اور اگر بفرض محال اس نے تم سے غیر عادلانہ سلوک بھی کیا ہو پھر بھی تم نے احسان کا سلوک نہ کیا تو تمہیں تو یہ حکم تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے مقابل پر ادنی تعلق والے ماں باپ سے بھی احسان کرو تو محمد رسول اللہ ﷺ کی نمائندگی میں جو شخص فرائض منصبی کو ادا کر رہا ہے اس کے سامنے باغیانہ سراٹھانا اور بدتمیزی کا سلوک کرنا اور عدل کے بہانے بعض دفعہ نظام جماعت کے خیر کے نام پر ایسی حرکتیں کرنا ہرگز خدا کے ہاں مقبول نہیں ہوسکتیں۔وہ لوگ سمجھتے نہیں دین کو ، یہ اسی لئے فرمایا گیا ان کو ایمان کا پتا ہی نہیں۔ایمان کے یہ سب تقاضے ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں اور یہ چیزیں صبر کے بغیر نصیب ہو نہیں سکتیں۔ماں باپ کا حق بھی وہی ادا کرتے ہیں ، ان کی زیادتی کو بھی وہی حو صلے سے برداشت کرتے ہیں اور پھر بھی اکرام کی بات اور احسان کی بات کرتے ہیں جن کو صبر نصیب ہو۔بے صبروں کو تو کچھ بھی نصیب نہیں ہوتا۔پس نظام جماعت کا حق بھی وہی ادا کر سکتے ہیں جن کو صبر نصیب ہو اور صبر کے بغیر نظام جماعت قائم ہو ہی نہیں سکتا اور اب یہ بات ہے جس پر میں خصوصیت کے ساتھ آپ کی توجہ مرکوز کرانا چاہتا ہوں۔جواندرونی امتحانات میں اپنے پیاروں ، اپنے عزیزوں ، اپنے بڑوں کی طرف سے پہنچنے والے ایڈا کو معاف نہیں کر سکتے ، جوان تکلیفوں پر صبر نہیں کرتے جو اپنے بڑوں سے ملی ہیں ان کو ، خواہ وہ تکلیفیں فرضی ہی کیوں نہ ہوں ان کو دنیا میں کسی کے مقابل پر حقیقت میں ایذاء رسانی کے وقت صبر کی توفیق نہیں مل سکتی۔اگر ملتی ہے تو محض ایک فرضی اور بے معنی قصہ ہے وہ اس امتحان میں ناکام ہو گئے جو باریک راہوں کا امتحان تھا۔اس لئے وہاں اگر کامیاب ہوئے ہیں تو اس کی کچھ اور مجبور یاں ہوں گی۔بسا اوقات انسان اپنے خاندانی تعلقات کی وجہ سے، اپنے بچپن کے تعلقات یا رشتوں کی وجہ سے جس ماحول میں پرورش پائی ہے اس کے غلبے کی وجہ سے انتہائی قدم نہیں اٹھا سکتا اس لئے جب تک بس چلتا ہے وہ صبر دکھاتا چلا جاتا ہے کیونکہ اس کی بڑی قیمت دینی پڑتی ہے اور وہ قیمت دنیاوی رشتوں سے قطع تعلق، دنیاوی تعلقات سے قطع تعلق، احمدی ماحول سے پلا ہے اس کی دوستیاں ، اس کے تعلقات ، اس کی رشتے داریاں ساری احمدیوں میں ہیں، وہ بڑے بڑے بے حیا ہی ہوتے ہیں جو ان کے باوجود پھر الگ ہو جاتے