خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 719
خطبات طاہر جلد 14 719 خطبہ جمعہ 22 /ستمبر 1995ء نے خاک کی چنکی سے کیمیا بنا دیا اور وہ خود بھی محسوس کرتے تھے وہاں کے ماحول والے سارے کہ یہ کچھ کا کچھ بن چکا ہے۔ان کا یہ دستور تھا ان کو جب مالی تنگی ہواب یہ نسخہ پہلے آپ نے شاید نہ سنا ہو، میں نے سنا ہوتو اور بات ہے لیکن عموماً لوگوں کو پتا نہیں کہ یہ بھی ایک نسخہ ہے، مالی تنگی محسوس ہوتی تھی تو بجائے اس کے کہ زیادہ وقت مال کمانے پہ لگائیں سارے کام چھوڑ کے تبلیغ کو نکل جاتے تھے اور فارمولا یہ بنایا ہوا تھا کہ میں اللہ کے کام کرتا ہوں اللہ میرے کام کرے گا اور کرتا تھا، کبھی بھی اس میں نا کامی نہیں ہوئی۔ان کے واقعات جو اس وقت بھی سننے میں آئے اب بھی شاید ان کی اولا د نے محفوظ کئے ہوں ان میں حیرت انگیز اعجازی نشانات ہوتے تھے۔وہ کام پہ گئے ہیں خدا کے کام پر تبلیغ شروع کی رات کو واپس آئے تو پتالگا کہ منی آرڈر آیا پڑا ہے کسی کی طرف سے تحفے کے طور پر، وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ رقم کہیں سے آئے گی اور وہ تحفہ مل جایا کرتا تھا۔تو اللہ تعالیٰ تو خود کام بنادیتا ہے لیکن اگر غم لگا کر اس کے کاموں کے لئے اپنے آپ کو وقف کریں اور اس کے کاموں پر نگاہ رکھیں۔پس جتنی قو میں ہم میں نئی آ رہی ہیں خواہ اس ملک میں ہوں یا جرمنی میں ہوں یا افریقہ میں ہوں یا Far East میں جو بحر الکاہل کے جزائر ہیں ان میں ہوں ، ہر طرف ایک ہی نسخہ ہے جو کام کرے گا آپ کو اپنی صلاحیتیں بڑھانے کے لئے اپنے بوجھ بڑھانے ہوں گے اور جن پر بوجھ نہیں ہے ان پر بوجھ ڈالنے ہوں گے، جلد از جلد بھرتی شروع کریں اور کام میں آپ کو اتنے بتا چکا ہوں کہ اگر آپ نے کرنے ہیں تو اس تعداد سے ہو ہی نہیں سکتے۔بھی بہت ہی زیادہ ہیں اور بہت ہی اہم کام ہیں، ہماری بقا کے ساتھ تعلق رکھنے والے ہیں آپ کو لازماً آدمی چاہئیں۔تو بجائے اس کے کہ یہ سمجھیں کہ جو چار گنتی کے آدمی کام کر رہے ہیں وہی اچھے ہیں اس تکبر میں مبتلا نہ ہوں۔جن کو آپ برا سمجھتے ہیں ان کو پیار سے پکڑیں اور سمجھا ئیں ان میں سے حیرت انگیز طور پر ایسے کیسے کام کرنے والے نکل آئیں گے جو آپ سے بھی بہتر ثابت ہوں گے یعنی ہوسکتا ہے کہ بہتر ثابت ہوں پھر تمام نئے آنے والوں کو کسی طرح کاموں میں ملوث کریں۔اس دفعہ جرمنی کے دورے پر جو بات میں نے خاص طور پر دیکھی ہے اس نصیحت کے نتیجے میں جن جن جماعتوں میں نئے آنے والوں پر ذمہ داری ڈالی گئی ہے ان کی تو کیفیت بدل چکی ہے۔جن پر کوئی بوجھ ڈالا گیا ہے وہ تو پہچانا نہیں جاتا یوں لگتا ہے جیسے صحابہ کی اولاد ہو۔تمام انداز بدل گئے ، نہ یورپ کا اثر ، نہ سفید فام