خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 680 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 680

خطبات طاہر جلد 14 680 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 1995ء محنت کا پھل تو انسان بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اس کی بڑی حفاظت کرتا ہے۔وہ امیر لوگ جن کو ورثے میں جائیدادیں ملی ہوں ان کی نگاہ جائیدادوں پر اور طرح ہوتی ہے۔کئی ایسے ہیں جو ان کو بیچ کھاتے ہیں اور بیچتے چلے جاتے ہیں اور کھاتے چلے جاتے ہیں۔یہاں تک کہ کچھ بھی باقی نہیں رہتا اس لئے کہ ہاتھوں کی کمائی نہیں، اس لئے کہ خون پسینے کی محنت اس میں صرف نہیں ہوئی۔پس جہاں وہ محنتی ہوں، زمیندار ہوں یا تاجر جنہوں نے دن رات کوشش کر کے جدوجہد کر کے جان جوکھوں میں ڈال کر کچھ کمایا ہو وہ اپنی کمائی کی بڑی حفاظت کرتے ہیں اور اس پر بہت گہری نظر رکھتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو برکت دیتا ہے۔پس جہاں تک آپ کی محنت کا تعلق ہے اور اس کے مقابل پر پھل کے حصول کا تعلق ہے یہ درست ہے کہ پھل بہت زیادہ ہے مگر کون سے دنیا میں ایسے کاروبار ہیں جہاں خدا محنت سے بڑھ کر پھل عطا نہیں کرتا۔جب بھی اللہ فضل فرماتا ہے زمینداروں کو دیکھو ایک دانے کے سینکڑوں دانے بن جاتے ہیں اور اگر یہ فضل الہی شامل نہ ہو تو انسان کی بقاء کا کوئی سامان ممکن نہیں ہے۔محنت کے برابر اگر پھل اللہ دے تو انسان کی قوت کا، اس کے زندہ رہنے کا، گزراوقات کا کوئی سہارا نہ رہے۔کچھ ایسا فضل ہے جیسے بارانی علاقوں میں بارش ہو جاتی ہے، از خود کھیتیاں پانی بھی حاصل کرتی ہیں، نشو ونما بھی پاتی ہیں، مرے ہوئے بیج بھی زندہ ہو جاتے ہیں اس کمائی کی اور کیفیت ہوتی ہے۔پس آپ لوگ اللہ کے فضل سے محنت کر رہے ہیں اور بڑی محنت کی گئی ہے بوسینز کے تعلق میں بھی اور البانینز کے تعلق میں بھی اور افریقین ممالک سے آنے والوں کے لئے بھی اور عربوں کے تعلق میں بھی اور جب یہ خبر ملتی ہے کہ دشمن نے اچانک ان کو بدظن کرنے کے لئے ، ان کو آپ سے دور ہٹانے کے لئے ایک منصوبہ ہی نہیں بنایا بلکہ اس پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔جب یہ اطلاع ملتی ہے کہ اس کے نتیجے میں کچھ لوگ جو پہلے تعلق رکھتے تھے وہ پیچھے ہٹ گئے ، یک طرفہ باتیں سن کر ان کے دلوں میں کئی قسم کے تو ہمات پیدا ہو گئے تو اس وقت مجھے یہ خیال آتا ہے کہ اگر قرآن کریم کی تمام ہدایت پر عمل کیا جائے تو ایسا کوئی موقع پیش نہیں آسکتا کہ دشمن کے وار کے بعد جب آپ کو چوٹ پڑے تب پتا چلے کہ کیا ہو رہا ہے۔اس چوٹ سے پہلے آپ کو چوٹ مارنے کے لئے ، چوٹ لگانے کے لئے تیار ہونا چاہئے اور یہ بھی ممکن ہے جب قرآن کریم کی نصیحت کے مطابق سرحدوں پر گھوڑے