خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 679 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 679

خطبات طاہر جلد 14 679 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 1995ء مغزی تبلیغ یا جہاد کا ایک ایسا لازمی جزو ہے جس کو ہم نے حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کے دور میں ہمیشہ صف اول میں پایا۔مکہ میں جو کچھ ہو رہا تھا اس کی خبریں آنحضرت ﷺ کو مستقل مل رہی ہوتی تھیں۔کب قافلہ تیار ہو رہا ہے، کہاں کے لئے تیار ہو رہا ہے، کیا منتیں ہیں، ان سب باتوں کی اطلاعیں آنحضرت ﷺ کو مسلسل اس نظام کے ذریعے ملتی تھیں جو اس آیت کی ہدایت کے نتیجے میں آپ نے جاری فرمایا۔اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں کہ تمام دنیا کی جماعتوں کے لئے ایک سبق ہے اور مجھے فکر ہے کہ اس پہلو میں کچھ کمزوری باقی ہے۔دعوت الی اللہ کے کام کو تو آگے بڑھایا جا رہا ہے خدا کے فضل سے، وقت کے ساتھ ساتھ جماعت زیادہ بیدار مغزی اور احساس ذمہ داری کے ساتھ ، زیادہ سے زیادہ مجاہدین کو اس عظیم جہاد میں جھونک رہی ہے لیکن جو دوسرا پہلو میں نے بیان کیا ہے اس پر ابھی پوری نظر نہیں ہے۔کئی دفعہ دشمن کے منصوبوں کی اطلاع اس وقت ہوتی ہے جب وہ حملہ کر چکے ہوتے ہیں اور یہ شیوہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کے غلاموں کا نہیں ہونا چاہئے۔آپ کا اطلاعات کا نظام پہلے سے زیادہ بیدار مغزی سے اور مستعدی کے ساتھ دشمن کے حالات کی خبر پر ہمیشہ تیار رہنا چاہئے اور خبریں حاصل کرنے کا نظام با قاعدہ منصوبے کے ساتھ بنانا ضروری ہے۔اس پہلو سے پاکستان میں بھی یہ کمزوری پائی جاتی ہے اور دوسری جماعتوں میں بھی یہ کمزوری پائی جاتی ہے۔اکثر جب شرارت شروع ہو جاتی ہے اور رخنے ڈال دیتی ہے اس وقت اطلاع ملتی ہے کہ دیکھیں یہ ہو گیا۔اب مثلاً جرمنی ہی کی مثال ہے۔یہاں خدا کے فضل سے بوسیز میں، البانینز میں بہت کام ہوا ہے اور مسلسل ہو رہا ہے۔جن خدام اور انصار کے سپرد یہ ذمہ داری کی گئی ہے ان پر ہرگز کوئی شکوہ نہیں۔انہوں نے اپنی جان کی حد تک اپنی تمام طاقتوں کو اس میں جھونک دیا ہے۔دن رات محنت کر رہے ہیں مگر جتنی زیادہ محنت ہو اتنا ہی پھل عزیز تر ہونا چاہئے کیونکہ بہت محنت کی جو کمائی ہے انسان اس کی زیادہ قدر کیا کرتا ہے۔پس جماعت جرمنی کو خدا تعالیٰ جو عطا کر رہا ہے یہ درست ہے کہ ان کی محنت سے ان کے کاموں کے مقابل پر بہت زیادہ عطا کر رہا ہے اور ہمیشہ اللہ کا یہی دستور ہے۔مگر یہ بھی درست ہے کہ محنت بہت کی جارہی ہے۔اگر سب کی طرف سے نہیں تو کم سے کم دس فیصد تو آپ میں سے ایسے ضرور ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان خدمت کے کاموں میں بہت محنت کی توفیق عطا کی ہے۔تو