خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 681 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 681

خطبات طاہر جلد 14 681 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 1995ء باندھے جائیں اور یہ بہت ہی پیارا محاورہ ہے، بہت عمدہ نقشہ کھینچتا ہے دفاعی نظام کا یعنی مرکز میں اکٹھے نہ رہو، مرکز تو تمہیں ہمیشہ اکٹھا کرنے کا ایک مقناطیس ہے جو اکٹھارکھتا رہے گا لیکن کناروں پر نظر رکھو تا کہ مرکز یعنی مومن کی جماعت کی جان پر حملے سے پہلے کنارے سے ہی دشمن کو ایسا دھکیل دیا جائے اور ایسا مایوس کر دیا جائے کہ پھر دوبارہ اس سے پچھلے بھی سبق حاصل کریں۔فَشَرِدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ (الانفال : 58) جوان کے پیچھے ہیں ان کو ایسی چوٹ مارو، ایسی سخت کارروائی کرو ان کے متعلق کہ جو پچھلے ہیں جن تک ابھی چوٹ نہیں پہنچی ، چوٹ کی آواز ایسی ہو کہ جوان کے دل دہلا دے اور وہ سمجھیں کہ اس جماعت کے مقابلے کی کوئی ہم میں استطاعت نہیں ہے۔یہ نظام ہے جس میں ابھی کمزوری پائی جاتی ہے اور اسے آپ کو ضرور جاری کرنا ہوگا۔ورنہ ہو سکتا ہے کہ جس طرح پہلے بسا اوقات نہیں تو بارہا ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ نقصان پہنچا ہے اور پھر اطلاع ہوئی ہے، آئندہ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔جو بھی نئی قومیں جماعت میں داخل ہو رہی ہیں وہی آپ کے کان ، وہی آپ کی آنکھیں بن سکتی ہیں۔انہی میں ایسے آدمی مقرر ہو سکتے ہیں جو ہر وقت اس بات پر نظر رکھیں کہ دشمن کیا جوابی کارروائی کر رہا ہے اور دشمن کی جوابی کارروائی تو سب جھوٹ پر مبنی ہے۔اس لئے اس کا علاج تو بہت ہی آسان ہے۔جھوٹ تو اندھیرے کی طرح ہے اور اگر روشنی پہنچے تو اندھیرے کے مقدر میں تو بھا گنا ہے۔پس بسا اوقات ایسے لوگوں کو مختلف قسم کے اندھیرے اپنے اندر گھسیٹ لیتے ہیں اور روشنی ان تک پہنچتی نہیں اور وہ اپنے اپنے دائرے ہی میں آنکھیں بند کر کے بیٹھ جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ واقعہ ایک بڑی جماعت سے ہمارا تعلق قائم ہوا تھا اور بر وقت ہمیں تنبیہ کر کے بچالیا گیا ہے اور خاص طور پر ان کو یہ تاکید ہوتی ہے کہ ان سے دوبارہ بات کرو ہی نہیں ، ان سے ملو ہی نہیں۔جب یہ آئیں ملنے کے لئے تو کہہ دو کہ ہرگز ہمارے قریب نہ آؤ ہم تمہیں جان چکے ہیں۔کیا جان چکے ہیں، کیا تم نے دیکھا ہے، کیا نئی بات پائی ہے؟ اس کا کوئی ذکر نہ کرو اور وہ نہیں کرتے۔چنانچہ جتنے بھی ایسے واقعات ہوئے ہیں ارتداد کے یا دلچسپی لینے والوں کے ٹھنڈا پڑ جانے کے ان میں ہر دفعہ یہی بات محسوس کی گئی کہ ان کو یہ پٹی پڑھائی گئی ہے کہ ان کے قریب نہ جانا، ان کی کسی دعوت کا جواب نہ دینا، ان سے کوئی گفتگو نہ کرنا بس اتنا کہو کہ بس ہمیں تمہاری اب ضرورت نہیں ہے۔