خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 665 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 665

خطبات طاہر جلد 14 665 خطبہ جمعہ 8 ستمبر 1995ء نوع انسان کے حق کیسے ادا کرے گا۔ان حقوق کی طرف فطرتاً توجہ پیدا ہی نہیں ہوسکتی جب تک حقیقتاً اپنے خالق ، اپنے رب، اپنے مالک کے حقوق کی طرف دل کی گہرائی سے توجہ پیدا نہ ہو۔پس اول طور پر نماز کو قائم کرنے کے لئے نہ صرف یہ کہ منصوبہ بنائیں بلکہ ابھی سے بنائیں۔کوئی وقت اس پر ضائع نہ کریں اور ہر دنیا ک جماعت ملکی سطح پر بھی اور چھوٹی سطحوں پر بھی یہ منصوبے بنائے اور ایسی ٹیمیں مقرر کر کے جن کا کام بس یہی ہو، وہ اسی بات کے لئے وقف ہو کے رہ جائیں کہ ہم نے نماز کی اہمیت بتانی ہے، نماز پر قائم کرنا ہے، نماز کے ترجمے سکھانے کے انتظام کرنے ہیں، نماز پڑھنے سے جو روحانی فوائد حاصل ہوتے ہیں ان کی طرف توجہ دلانی ہے اور مسلسل یہ کام ان تھک طور پر کرتے چلے جانا ہے اور ہارنا نہیں۔ایک لمحہ بھی اس ذمہ داری سے نہ غافل ہونا ہے، نہ مایوس ہونا ہے۔اگر چہ شروع میں بسا اوقات مشکلات بھی پیش آتی ہیں مگر اکثر مشکلات اپنی بے وقوفیوں سے پیش آتی ہیں۔اگر انسان اپنے دائرے کو سمجھتا ہو کہ کتنا میرا دائرہ ہے اور اس سے آگے بڑھنانہ چاہے، نہ بڑھنے کی حیثیت رکھتا ہے تو پھر مایوس نہیں ہوسکتی پھر تذکیر کا کام بغیر مایوسی کے چلتا ہے۔سب سے بڑی ذمہ داری تذکیر کی یعنی نصیحت کے ذریعے دنیا میں عظیم روحانی انقلاب برپا کرنے کی ذمہ داری حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے کندھوں پر ڈالی گئی۔آپ نے دن رات اس کو ادا کیا ، دن رات بظاہر مایوس کرنے والے حالات کا سامنا رہا اور سالہا سال تک وہ دنیا جو آپ کے گردو پیش میں بستی تھی ان کے دلوں کو ان پتھروں کی طرح پایا جن میں کوئی چیز سرایت نہیں کر سکتی۔اس کے باوجود ایک لمحہ کے لئے بھی مایوس نہیں ہوئے۔آپ کے لئے مایوسی کا تو تصور بھی گناہ ہے۔جبکہ حضرت زکریا جو آپ کے مقابل پر ایک معمولی شان کے نبی تھے وہ اپنے رب کے حضور عرض کرتے ہیں کہ اے میرے رب میرے بال سفید پڑ گئے ہیں ، میری ہڈیاں گل گئی ہیں ولَمْ أَكُنُ بِدُعَابِكَ رَبِّ شَقِيًّا ( مریم : 5) مگر میں وہ بد بخت نہیں ہوں جو تیرے سے دعا کرنے سے مایوس ہو جاؤں۔تو مایوسی کا مومن کے کاموں کے ساتھ کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اپنے دائرہ کار میں رہے اور ہمیشہ دعا میں لگار ہے۔اگر یہ دو باتیں یقینی طور پر ساتھ ہوں تو پھر کبھی کوئی مومن کسی پہلو سے بھی کسی وقت بھی مایوس نہیں ہو سکتا۔دائرہ کار میں رہنا ہی دراصل دعا کو پیدا کرتا ہے۔