خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 666 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 666

خطبات طاہر جلد 14 666 خطبہ جمعہ 8 ستمبر 1995ء بسا اوقات میں نے نصیحت کرنے والے دیکھے ہیں خواہ وہ اپنے گھر میں بچوں کو نصیحت کریں یا باہر ماحول میں نصیحت کا کردار ادا کریں وہ پہلے اس وجہ سے مایوس ہوتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ گویا تبدیلی کر دینا ان کا کام ہے حالانکہ اگر آنحضرت ﷺ کا کام بلاغ ہے یعنی پہنچانا ہے لیکن نہایت عمدگی کے ساتھ پہنچانا ایسا پہنچانا کہ جس سے اوپر پہنچانے کا حق ادا ہو ہی نہیں سکتا، نصیحت کرنے کے کام کو اپنے درجہ کمال تک پہنچانا، یہ مطلب ہے بلاغ کا۔تو اگر یہ پتا ہو کہ میرا کام بلاغ ہے اور بلاغ کے بعد پھر میں مصیطر نہیں بنتا ، نہ بن سکتا ہوں۔حقیقت میں نصیحت کے ذریعے تبدیلی کر دکھانا اور بات ہے اور کامل یقین کے ساتھ اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے نصیحت کرتے چلے جانا ایک اور بات ہے۔پس قرآن کریم جو آنحضرت ﷺ کے متعلق فرماتا ہے وہ یہی ہے کہ تیرا کام صرف بلاغ ہے اور بلاغ کا مطلب جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کسی بات کو عمدگی کے ساتھ پہنچا دینا کہ اس سے بہتر طریق پر پہنچائی جا نہ سکتی ہو۔پہنچانے کے تمام حقوق ادا کر دینا۔پھر اس کے بعد کسی زبردستی کے تصور کو دل میں جگہ نہ دینا کیونکہ بلاغ کے بعد پاک تبدیلی یا بندے کا کام ہے یا خدا کا جو اس بندے کو یہ توفیق دے۔مگر پہنچانے والے کا فرض نہیں ہے کہ زبر دستی کسی کو نیک بنادے اور نہ زبر دستی کوئی انسان کسی کو نیک بنا سکتا ہے۔یہ محض جاہلانہ باتیں ہیں۔یہ جو مختلف اسلامی ممالک میں بعض دفعہ زبر دستی نیک بنانے کی تحریکیں اٹھتی ہیں یہ قرآن کریم سے کلیۂ جہالت کے نتیجے میں ہیں۔آنحضرت کے کردار سے قطعی لاعلمی کے نتیجے میں ہیں۔کوئی انسان کبھی کسی دوسرے شخص کو خواہ اپنی اولا دہی کیوں نہ ہوز بر دستی نیک نہیں بنا سکتا۔حضرت نوح“ کا حال آپ نے پڑھا اور سنا ہے بار بار سنتے اور پڑھتے ہیں یا آپ نہیں جانتے کہ حضرت نوح نے بلاغ کا حق کیسے ادا کیا تھا؟ قرآن کریم میں ایک ایسا دردناک منظر کھینچا گیا ہے کہ وہ اپنے رب سے مخاطب ہو کے کہتے ہیں اے خدا میں نے سب کچھ کر دیکھا ہے۔میں نے اونچی آواز میں بھی ان کو بلایا، میں نے سرگوشیوں میں بھی ان کو دعوت دی، میں راتوں کو بھی اٹھ کران کے لئے نکلا اور دن کی روشنی میں بھی انہیں پیغام پہنچا تا رہا۔کبھی میں نے ان کو ڈرایا، کبھی خوشخبریاں دیں، کبھی منت سماجت کی۔غرضیکہ جو کچھ میری طاقت میں تھا سب کچھ کر دکھایا مگر اے خدا یہ بدلنے کا نام نہیں لیتے۔پس اب تجھ پر معاملہ ہے۔پھر خدا نے جو معاملہ کیا یہ وہی بہتر جانتا ہے کہ کس قوم کے