خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 664 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 664

خطبات طاہر جلد 14 664 خطبہ جمعہ 8 ستمبر 1995ء دعوت الی اللہ کے نئے منصوبے بنائے جارہے ہیں بلکہ بہت سی جگہ ان پر عمل شروع ہو چکا ہے وہاں ایک احمدی جماعت کا گروہ ایسا وقف رہے جس کا کام محض قیام صلوۃ ہو۔وہ اپنوں میں بھی اور نئے آنے والوں میں بھی جو اپنے بن رہے ہیں ان میں بھی نماز با جماعت کے قیام کی مسلسل جد و جہد کرتا رہے اور کسی خوش فہمی پر مبنی رپورٹ پیش نہ کرے بلکہ اعداد وشمار پر مشتمل ، جن کا با قاعدہ مسلسل وہاں انضباط ہوتا رہے، جس کو کاپیوں پر درج کیا جائے اور ہر ذمہ دار کارکن اپنے پاس اس کا ریکارڈ رکھے۔وہ ہمیشہ اس کے اپنے لئے بھی یاد دہانی بنتا ر ہے اور جب وہ آئندہ مرکز میں رپورٹ بھیجے تو یقین کے ساتھ بھیجے کہ یہ کام اس حد تک ہو چکا ہے۔اس کے لئے بہت سے طریق ہیں جنہیں اپنانا چاہئے۔ایک دفعہ میں نے ایک سلسلہ شروع کیا تھا قیام عبادت کا کہ قیام عبادت کیا چیز ہے، یہ خطبات کا سلسلہ تھا اور اس ضمن میں بہت سی ایسی باتیں کی تھیں جو قرآن اور حدیث اور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات کے حوالے سے تھیں کہ ان کے نتیجے میں مجھے جو کل عالم سے اطلاعیں ملتی رہیں، یہ محسوس ہوا کہ خدا کے فضل سے دلوں میں ایک حرکت پیدا ہوئی ہے اور عبادت کے قیام کی طرف سچی توجہ پیدا ہوئی ہے۔مگر یہ باتیں ایک دفعہ کر کے ختم کرنے والی باتیں نہیں ہیں۔یہ تو تذکیر ہے جو ہمیشہ جاری رہتی ہے اور جاری رہنی چاہئے۔یہ وہ یاد دہانیاں ہیں جو اگر بار بار نہ کروائی جائیں تو نفس خود بخو دبھول جاتا ہے۔اس لئے ان سے بھی استفادہ کیا جائے۔ان خطبات کے سلسلے سے بھی، دیگر ذرائع سے بھی مل بیٹھ کر سوچیں اور مجلس عاملہ میں یا دنیا بھر کی مجالس عاملہ میں یہ مسئلہ زیر غور آئے کہ نئے حالات کے تقاضے ہیں کہ ہم قیام نماز کی طرف پہلے سے بہت زیادہ توجہ کریں۔سینکڑوں گنا بھی کہا جائے تو یہ مبالغہ نہیں ہے کیونکہ اگر سینکڑوں گنا توجہ بھی زیادہ ہو جائے تب بھی پوری طرح حق ادا نہ ہو سکے گا کیونکہ عبادت تو زندگی کے قیام کا مقصد ہے۔عبادت کی خاطر جن وانس کو پیدا کیا گیا ہے اور عبادت کے بغیر انسان کی انسانیت مکمل نہیں ہوتی اور انسانیت کی تکمیل کے بغیر دنیا کے مسائل حل ہو ہی نہیں سکتے اس لئے جن پہلوؤں سے جب ہم نظر کرتے ہیں تو کہتے ہیں انصاف کو قائم کرو تو دنیا کے مسائل حل ہو جائیں گے یہ درست ہے۔مگر انصاف کو کیسے قائم کریں گے اگر بندہ اپنے خدا سے انصاف نہ کرتا ہو اور خدا کے حق ادا نہ کرتا ہوتو بنی