خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 663 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 663

خطبات طاہر جلد 14 663 خطبہ جمعہ 8 ستمبر 1995ء سے لے کر یعنی سورج کے ڈھلنے کے وقت سے لے کر دوسری صبح تک یعنی جب تک رات اندھیری رہے اور گہری رہے عبادت ہی میں مصروف رہتا ہے یا عبادت کے قیام کا حق ادا کرتا رہتا ہے۔اب کتنے ہیں ہم میں جو واقعہ اس آیت کے مصداق نماز کو ادا کرتے ہیں۔ایسے تو بہت سے بن رہے ہیں جو پہلے پوری نماز نہیں پڑھا کرتے تھے اب خدا کے فضل کے ساتھ بارہا کہنے کے بعد مختلف تنظیموں کو احساس دلانے کے بعد اور ان کی کوششوں سے نماز کی طرف متوجہ ہو گئے ہیں۔مگر نماز کی طرف متوجہ ہونا کافی نہیں ہے کیونکہ عبادت کے قیام کے بغیر دنیا کا قیام ممکن نہیں۔ہم نے دنیا کو قائم کرنا ہے اور دنیا کو تو حید پر قائم کرنا ہے اور تو حید پر قائم کرنے کے لئے قیام عبادت ایسالازمہ ہے جیسے اوپر کی منزل تعمیر کر لیں اور یا نچلی منزل ہو بھی تو بنیادوں کے بغیر کیونکہ ایسی عمارت کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔پس یہ جو باتیں میں آپ سے کر رہا ہوں گہری فکر کی باتیں ہیں۔جب ہر سال اللہ تعالیٰ فضلوں کی بارش نازل فرماتا ہے تو یہ درست ہے کہ نعرہ ہائے تکبیر سے کل عالم گونج اٹھتا ہے اور ہمارے دلوں میں ایک ایسا حیرت انگیز ہیجان پیدا ہو جاتا ہے جس کی دنیا والوں کو کچھ بھی خبر نہیں۔مگر یہ ہیجانی کیفیت تو آنی جانی ہے۔جو دائم رہ جانے والی چیز ہے وہ ایسی نیکی ہے جسے قرآن کریم باقیات میں سے شمار کرتا ہے۔جس کی تعریف میں سے شمار کرتا ہے۔جس کی تعریف میں باقی رہنا داخل کر دیا گیا ہے۔الصالحات کے ساتھ الباقیات کی ایک ایسی شرط قرآن نے لگادی ہے کہ جس کے بعد عارضی نیکی کا کوئی تصور بھی باقی نہیں رہتا۔نیکی وہی ہے جو زندگی کا ساتھ دے، جو ہمیشہ کے لئے جزو بدن بن جائے، جو رگوں میں دوڑتی پھرتی رہے جیسے خون دوڑتا پھرتا ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہ ہو۔پس نماز بھی ایسی ہی نیکیوں میں سے اول درجے کی نیکی ہے جسے ہماری سانسوں میں رچ بس جانا چاہئے ، جسے ہمارے خون میں دوڑنا چاہئے ، جسے ہمارے وجود کا ایک اٹوٹ حصہ بن جانا چاہئے۔یہ وہ نماز ہے جو آپ کو بھی اور مجھے بھی قائم کرے گی اور ہمیں اس قابل بنائے گی کہ ہر بڑھتے ہوئے بوجھ کو خوشی سے اٹھائیں اور خدا سے مزید کی توقع رکھتے چلے جائیں۔پس پہلی بات تو نماز کے قیام کی طرف توجہ دلا نا تھی اور اسی سلسلے میں میں آپ سے خصوصیت کے ساتھ یہ گزارش کروں گا کہ جو نو مبائعین ہم میں آتے ہیں ان پر اس پہلو سے نظر رکھنا اور ان میں نمازی بنانا ہمارا اولین کام ہے اور اس غرض کے لئے ہر جماعت میں جہاں آئندہ