خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 662 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 662

خطبات طاہر جلد 14 662 خطبہ جمعہ 8 ستمبر 1995ء جب اور وں کو دعوت دیں توان کی تربیت کی بھی اہلیت رکھیں یہ ایک بہت بڑا اور اہم کام ہے جس کے نتیجے میں میں ایک دائمی فکر میں غلطاں ہو گیا اور خصوصیت سے دعا کرتا رہا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل۔خود ہی اس کے حل کی کوئی راہ دکھائے۔اب ایک مقام پر کھڑے ہو کر ٹھہرنا ویسے ہی انسانی فطرت کے خلاف ہے اور دل یہی چاہتا ہے کہ اللہ پہلے کی طرح ہی دگنی اور چوگنی رحمتوں کی بارشیں بڑھاتا رہے۔لیکن اگر محض قلبی لطف کی بات ہو تو معاملہ یہاں ختم ہو جائے لیکن قلبی لطف کی بات نہیں۔ان احسانات کے ساتھ احسانات کے حق ادا کرنے کی ذمہ داریاں بھی بہت بڑھتی جاتی ہیں۔پس یہ وہ پہلو ہے جس کے متعلق میں آج آپ سے کچھ کلام کرنا چاہتا ہوں۔کل ہی اس فکر میں مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ بات سمجھائی کہ جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے انہی آیات میں ان فکروں کا حل موجود ہے۔اگر جماعت نے بکثرت پھیلنا ہے اور پھیلنے کے نتیجے میں جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں انہیں اللہ کی رضا کے مطابق ادا کرنا ہے تو یہ وہ آیات ہیں جن میں ان مسائل کا سب حل موجود ہے۔سب سے اہم بات قیام صلوۃ ہے اَقِمِ الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ اور یہ قیام صلوۃ دا عین الی اللہ کے لئے بھی جتنا ضروری ہے اتنا ہی ان کے لئے ضروری ہے کہ نئے آنے والوں کو بھی نماز پر قائم کر دیں اور یہ مہم اگر ساتھ ساتھ جاری نہ رہے تو ان آنے والے پھلوں کو سنبھالنا پھر تقریباً ناممکن ہو جائے گالیکن جہاں تک میں نظر ڈالتا ہوں لازم ہے کہ انصاف کی نظر ڈالوں اور خوش فہمی کی نگاہ نہ ڈالوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جماعت میں ابھی نماز باجماعت کے قیام کی طرف پوری توجہ نہیں ہے بلکہ اگر روزمرہ کے جماعت کے حالات نوجوانوں کے حالات ،لڑکوں اور لڑکیوں کے حالات پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ بہت سے ان میں سے ایسے ہیں جو حقیقت میں نماز پڑھنا جانتے نہیں۔جانتے ہیں تو رسمی نماز میں شمولیت کی حد تک تو جانتے ہیں مگر وہ باجماعت نما ز جس کا ان آیات میں ذکر ہے اس سے ابھی وہ بہت دور ہیں۔أقِمِ الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ ایک مسلسل گھیرے میں ڈالنے والی آیت ہے۔جو دن کے مختلف وقتوں کو گھیر رہی ہے اور منظر یہ پیش کر رہی ہے کہ ایسا شخص جو خدا کی عبادت میں مصروف ہے، اس کا حق ادا کرتا ہے وہ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ