خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 628
خطبات طاہر جلد 14 628 خطبه جمعه 25 راگست 1995ء خاطر ہی یا اس خیال سے کہ اگلا انکار ہی کر دے گا کہ بیٹھتے ہیں چلو اچھا پسند ہے تو لے لو۔وہ سمجھتے ہیں کہے گا نہیں رہنے دو۔وہ بعض دفعہ لے ہی جاتا ہے۔سارا دن ان کا پچھتاوے میں گزرتا ہے میں کیا منہ سے کہہ بیٹھا۔لیکن اگر محبت ہو اور وہ نہ لے پھر بھی دکھ میں گزرتا ہے مگر بہت زیادہ دکھ میں۔ایک دن نہیں بعض دفعہ ہفتوں مہینوں اس کا دکھ رہتا ہے۔بعض دفعہ ساری عمر اس دکھ میں کٹ جاتی ہے کہ میں نے اتنے پیار سے تحفہ دیا تھا، اسے نا منظور کر دیا گیا۔پس یہ محبت کے کھیل ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم تمہیں درجہ بدرجہ اعلیٰ سے اعلیٰ مقامات کی طرف لے جارہے ہیں اور مالی قربانی میں بھی ہر مقام کے بعد ایک اور اعلیٰ مقام پڑا ہوا ہے پس اگر تم چاہتے کہ تم ابتر ہو جاؤ خدا کے نزدیک یعنی خدا کے نزدیک تم ایسے نیکوں میں شمار ہو کہ ان سے اللہ محبت کرنے لگے تو پھر مال وہ خرچ کرو جس سے تمہیں محبت ہو۔اب جتنی زیادہ اللہ سے محبت ہو اتنا ہی زیادہ وہ مال انسان خرچ کر سکتا ہے جس سے محبت ہو۔جتنی کم اللہ سے محبت ہو اتنا ہی کم وہ مال خرچ کر سکتا ہے جس سے محبت ہو۔ایسا حیرت انگیز فارمولا ہمیں سمجھایا گیا ہے جو Equation کی طرح حسابی طور پر کام کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی لکھا ہے اور عام ہمارا مشاہدہ ہے کہ بعض لوگ فقیروں کے لئے غریبوں کے لئے سڑی کسی ہوئی روٹیاں پرانے پھٹے ہوئے کپڑے سنبھال کے رکھتے ہیں کہ خدا کی خاطر دان دیا جائے۔کہتے ہیں خدا کی خاطر اور دیتے ہیں وہ چیز جونہایت بوسیدہ اور ذلیل ہو۔قرآن کریم کی اس کی طرف بھی نظر ہے کوئی پہلو نہیں چھوڑتا، یہ عجیب کتاب ہے۔فرماتا ہے، دیکھو خدا کی راہ میں ایسا خرچ نہ کرنا کہ اگر تمہیں ملے تو نہ لو سوائے اس کے کہ شرم سے آنکھیں جھکی ہوئی ہوں اور نظر اٹھا کے نہ دیکھ سکو پھر کہ میں نے کیا ذلیل چیز قبول کر لی ہے۔ایسی ہی حالت انسان پر اس وقت آتی ہے جبکہ غربت کی مار سے وہ ذلیل ہو چکا ہوتا ہے۔عزت نفس ہو بھی تو بے اختیار ہو چکا ہوتا ہے۔کوئی شخص بھی اس کو گری پڑی ذلیل روٹی بھی دے دے گا تو وہ لے لے گا مگر یہ محبت کے سودے تو نہیں ہیں، یہ نفرت کے سودے ہیں۔ایسی قربانی محبت نہیں پیدا کر سکتی یہ نفرت پیدا کر سکتی۔چنانچہ بسا اوقات ایسے لوگ اس گرہ کو دل میں باندھ رکھتے ہیں کہ جب ہمیں ضرورت تھی تو اس شخص نے ایسا ذلیل سلوک کیا تھا پھر جب ان کو خدا توفیق دیتا ہے تو اگر کریم ہوں اور معزز ہوں تو ان کو بہت زیادہ اور اعلیٰ دے کر اپنا بدلہ اتارتے ہیں مگر یہ بدلہ ضرورا تا رتے ہیں اور اگر وہ کمینے لوگ ہوں تو جس ہے۔