خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 627 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 627

خطبات طاہر جلد 14 627 خطبه جمعه 25 اگست 1995 ء ہے۔انسانی تجارت کا بھی ، عام قربانی کی تجارت کا بھی اور قرضہ حسنہ کی تجارت کا بھی۔پھر فرمایا کہ جو کچھ بھی تم خرچ کرتے ہو اس کے پیچھے روح کیا ہونی چاہئے۔وہ کون سی روح ہے جو اللہ کو پسند ہے اور سب سے زیادہ پسندیدہ قربانی کون سی ہوگی فرمایا لن تنالوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران : 193) اگر تم البر چاہتے ہو یعنی نیکی کا اعلیٰ درجہ حاصل کرنا چاہتے ہو تو تم ہرگز انبر کو حاصل نہیں کر سکو گے۔جب تک کہ جو کچھ مال خرچ کرتے ہو اس سے تمہیں محبت ہو اور محبت والا مال خدا کی راہ میں خرچ کرو۔اس کے بہت سے پہلو ہیں۔ان میں ایک پہلو جو پہلے بھی بارہا میں بیان کر چکا ہوں وہ یہ ہے کہ خدا کی خاطر جب پیش کرنا ہو تو محض تجارت کی غرض سے تو کرنا نہیں وہ تو قرضہ حسنہ بھی اگر ہوتو وہاں تجارت کا پہلو دینے والے کے پیش نظر نہیں ہوا کرتا۔دینے والا تو محض ایک ضرورت پوری کرنے کی خاطر دیتا ہے اس کا ہی نام قرضہ حسنہ ہے۔وہ کہتا ہے اگر میرا ہی لوٹا دو تو بس مجھے کافی ہوگا، اپنی ضرورت پوری کر لو۔لینے والا بہت معزز ہے اس لئے وہ بڑھا کر دے گا۔اس لئے نیت میں تجارت نہیں ہوتی مگر پھر بھی جانتا ہے کہ ہے تو سہی ، دوں گا تو زیادہ ملے گا۔اللہ تعالیٰ اس سے اگلا درجہ اب بتا رہا ہے وہ ہے محبت کی تمنا۔البر یہاں کوئی بھی اجر کی توقع نہیں ہے صرف اپنی ذات کو معزز بنانے کی توقع میں انسان خرچ کرے یعنی خدا کے نزدیک اس کی قیمت پڑ جائے اور یہ پہلو وہ ہے جس کا مال کے خرچ میں محبت کے عصر سے تعلق ہے۔جب بھی آپ مال خرچ کریں اور ایسا مال خرچ کریں جس سے محبت ہو تو ظاہر ہے کہ وہ مال اس کی خاطر خرچ کر سکتے ہیں جس سے زیادہ محبت ہو، ورنہ نہیں کر سکتے۔یہ ایک دائگی غیر مبدل فطری اصول ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے۔آپ کو جس سے پیار ہو آپ اس کے لئے بڑی بڑی قربانیاں دیتے ہیں۔بہت بہت قیمتی مال خرچ کر کے تحائف پیش کرتے ہیں۔وہ جتنا بھی قیمتی تحفہ ہو اتنا ہی زیادہ آپ کو اچھا لگتا ہے اور کسی ایسے شخص کو آپ نہیں دے سکتے جس سے آپ کو محبت نہ ہو۔آپ کو تو صدمہ پہنچے گا اگر ایسے شخص کو وہ چیز ہاتھ آجائے جو آپ کو پیاری ہو اور وہ شخص کم پیارا ہو۔آپ سمجھتے ہیں نقصان ہو گیا۔اگر اس سے محبت زیادہ ہو جس کی خاطر دیتے ہیں تو پھر اگر وہ نہ لے پھر صدمہ پہنچتا ہے۔جس سے کم محبت ہوا گر وہ لے لے تو پھر صدمہ پہنچتا ہے۔بعض دفعہ لوگ بے چارے دکھانے کی