خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 629 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 629

خطبات طاہر جلد 14 629 خطبہ جمعہ 25 /اگست 1995ء طرح انہوں نے سلوک کیا اسی قسم کا ذلیل سلوک ان سے کر کے اپنے انتقام کی آگ کو بجھا لیتے ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ کریم ہے وہ ایسی چیزوں سے پکڑتا نہیں ، غض بصر کر جاتا ہے مگر قبول نہیں فرماتا۔ایسی چیزیں پیش کرنا ہی گستاخی ہے۔پس قرآن کریم فرماتا ہے ایسی قربانی نہ کرنا۔اپنی طرف سے قربانی کر رہے ہو۔تمہارے لئے اگر وہ قربانی پیش کی جائے تو شرم کے مارے جان نکل رہی ہو ، آنکھ اٹھا کر نہ دیکھ سکوکسی سے، دینے والے سے آنکھ نہ ملاسکو حیا کے نتیجے میں۔اس کے برعکس یہ ہے لَنْ تَنالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ خرچ کرنا ہے تو محبت کے نتیجے میں کرو۔پس جہاں محبت بڑھ گئی وہاں خرچ کے معیار یا خرچ کرنے کی جگہیں بھی بدلتی چلی جاتی ہیں۔اب وہ سڑی بسی روٹی تو نہیں مگر ایک مہمان آیا ہے آپ اس کے لئے درمیانی تعلق رکھتے ہیں تو جو بھی گھر میں پکا ہے پیش کر دیتے ہیں ہاں ایک آدھ بیچ میں میٹھا بھی پکوالیا یا جلدی سے بازار بھیج دیا اور کچھ نہیں تو Fish and Chips ہی اٹھا لاؤ مہمان آیا ہوا ہے۔یہ محبت کا تقاضا ہے۔ایک مہمان آتا ہے تو دل چاہتا ہے کہ سب کچھ انسان نچھاور کر دے۔دوڑتے پھرتے ہیں لوگ اس کو خوش کرنے کے لئے یہ بھی پکڑو وہ بھی پکڑو اور بعض دفعہ اتنا تکلف کرتے ہیں کہ وہ مہمان دس دن بھی کھاتا رہے تو وہ پھر بھی بچ جائے اس سے اور کہو کہ کیوں اتنا زیادہ پکار ہے ہو آخر ایک آدمی آ رہا ہے۔تو کہتے ہیں ہم تو اپنا شوق پورا کر رہے ہیں۔جتنا کھانا ہے کھا لینا اور چھوڑ دینا اور بسا اوقات مجھے تجربہ ہوا ہے اپنے دوروں کے دوران کہ بعض دیہات میں جاتے ہیں اپنے اخلاص میں اتنا کھانا نہ صرف پکاتے ہیں بلکہ پلیٹ میں اتنا ڈال دیتے ہیں کہ تین دن میں بھی آدمی نہ کھا سکے۔پلیٹیں بھی بعض دفعہ دیہات میں کافی بڑی ہوتی ہیں۔چھوٹے چھوٹے مجمعوں میں وہ ایک ایک پلیٹ ڈالتے ہیں۔کئی دفعہ میں نے کہا یہ دیکھو مجھ میں طاقت نہیں ہے، ہو ہی نہیں سکتا میں کھاؤں۔انہوں نے کہا نہیں جب بھوک ختم ہو چھوڑ دینا مگر ہمیں تو شوق پورا کرنے دو۔ہم چاہتے ہیں کہ آپ کو اتنا کھلا ئیں تو یہ محبت کی باتیں ہیں۔تو اللہ تعالیٰ بھی پھر اتنا ہی قبول فرماتا ہے جو اعزاز کی خاطر قبول کیا کرتا ہے۔آپ پیش محبت سے کریں تو بسا اوقات وہ سارا لیا ہی نہیں جاتا مگر قبول ان معنوں میں ہو جاتا ہے کہ اس کے نتیجے میں اس سے بھی بڑھ کر محبت عطا ہوتی ہے جتنی کہ آپ نے سودا کیا تھا اور یہ سب سے اعلیٰ قربانی کا طریق ہے۔اس نیت سے قربانی کریں تو پھر خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آپ