خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 591 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 591

خطبات طاہر جلد 14 591 خطبہ جمعہ 11 اگست 1995ء دیا اور ان کے اونٹ بھر کر واپس بھیجے تو ملازموں سے کہا کہ ان کی متاع بھی ساتھ واپس کر دو۔اللہ کے نبی بھی اللہ ہی سے رنگ پاتے ہیں۔انہوں نے جب پہلے رزق دیکھا اپنے باپ کو خوشخبریاں دیں۔بہت خوش تھے کہ بہت ہم رزق لے کے آئے ہیں۔جب کھولا تو پھر دوڑے دوڑے گئے کتنی خوش خبری کی بات ہے اے ہمارے باپ یہ تو ہمارے پیسے بھی واپس کر دیئے۔تو جس طرح وہاں بعد میں ہوا تھا وہی مضمون یہ آیت پیش کر رہی ہے کہ تمہاری بھلائی تو ہے ہی تمہیں سب کچھ مل جائے گا جو چاہتے ہو۔پھر جب کھولو گے اپنی پوٹلیاں تو پتا چلے گا کہ جو دیا تھا وہ بھی واپس ہو جائے گا۔مگر یوسف تو ایک انسان تھا اس نے تو اتنا ہی دیا جتنا بھائیوں نے دیا تھا مگر اللہ جو پوٹلیوں میں واپس ڈالے گا وہ سنبھالا بھی نہیں جائے گا اس کثرت کے ساتھ وہ عطا کرتا ہے۔پھر فرماتا ہے لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أَحْصِرُوا فِي سَبِیلِ اللهِ خرچ جو کرتے ہو اللہ کی رضاء کی خاطر اس میں صرف یہ نہیں کہ ہم اپنے بچوں کو دے رہے ہیں ، اللہ کی رضاء کی خاطر بچوں ہی کو دیئے جاؤ۔یہ بھی ایک طریق ہوتا ہے کہ اللہ جو کہتا ہے کہ بچوں کی خدمت کرو، بیویوں کا خیال رکھو۔چلو بیوی بچوں کو دیئے چلے جاؤ۔اللہ فرماتا ہے کہ جو خدا کی رضا کی خاطر دیتے ہو تو اپنے حقوق قربان کر کے ان کو زیادہ دیتے ہو، جن کا براہ راست تم پر حق نہیں ہے مگر وہ اللہ کی خاطر غریب بنائے گئے۔اس لئے ان کا ذکر الگ فرما دیا ہے۔لِلْفُقَرَآء الَّذِینَ یہاں واؤ بھی داخل نہیں فرمائی کہ اور فقراء کے لئے۔فرمایا اول طور پر جب وہ خدا کی رضا چاہتے ہیں تو خدا کی خاطر ضرورت مند ہو جانے والوں پر وہ خرچ کرتے ہیں۔ایک تو فقراء پر خرچ کرنے کا مضمون ہے جو قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر کثرت سے بیان ہوا ہے۔یہاں وہ مضمون نہیں ہے۔یہاں ایسے فقراء کا ذکر ہے جو اللہ کی خاطر فقیر ہو گئے اور ان کو کچھ دینا صدقہ نہیں ہے بلکہ ایک سعادت ہے اور طرح کی۔ایک تو خرچ ہے جس میں انسان صدقے بھی دیتا ہے اور بظاہر ایک عطا کا پہلو بھی رکھتا ہے۔فرمایا ان کو جو تم رضا کی خاطر دو گے تو سب سے پہلے ان کا حق ہو گا جو اللہ کی خاطر خود فقیر ہو گئے۔الَّذِينَ أَحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَہ اللہ کے رستے میں گھیرے میں آگئے۔ایک تو وہ لوگ ہیں جو ایک جگہ اس طرح محصور کر دیئے گئے کہ وہاں سے نکل کر وہ آزادی کے ساتھ دنیا میں کمائیاں کر ہی نہیں سکتے۔ان میں سے وہ بھی ہیں مثلاً پاکستان