خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 590 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 590

خطبات طاہر جلد 14 590 خطبہ جمعہ 11 اگست 1995ء میں کر رہا ہوں کیونکہ میرے نزدیک یہی معنی درست ہے اس کے بغیر اس آیت کا ربط نہیں بنتا۔بشرطیکہ وَمَا تُنفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاء وَجْهِ اللهِ یا یوں کہنا چاہئے وجہ اس کی یہ ہے کہ تم جو کرو گے یعنی اے مومنو! تم جو مال خرچ کرو گے وہ ضرور تمہارے فائدے کا ہوگا وجہ یہ ہے کہ تم اللہ کی رضا کے بغیر خرچ ہی نہیں کرتے۔تو جب تم ہر خرچ رضائے باری تعالیٰ کی خاطر کرتے ہو تو لازم ہے کہ وہ مال جس طرح بھی خرچ ہو وہ تمہارے لئے بہتر ہوگا اور تمہارے فائدے میں ہوگا۔اسی مضمون میں آنحضرت ﷺ کی وہ حدیث ہے جس میں بیوی کو لقمہ کھلانے کا ذکر ہے وہ میں آئندہ پڑھ کے سناؤں گا۔ترجمہ کہ اے مومنو! تم جو بھی مال خرچ کرو تمہارے ہی فائدے میں ہوگا۔وجہ یہ ہے کہ کیونکہ تم خرچ ہی نہیں کرتے مگر اللہ کی رضا حاصل کرنے کی خاطر ، اس کی محبت جیتنے کی خاطر۔وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرِ پس اس شرط کے ساتھ جو بھی تم خرچ کرو يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وه بھی تمہیں واپس لوٹا دیا جائے گا۔بہت ہی لطیف انداز ہے۔پہلے یہ بات بیان نہیں کی کہ تمہیں واپس لوٹا دیا جائے گا۔فرمایا جو کچھ تم خرچ کرو گے رضاء باری تعالیٰ کی خاطر، وہ تمہاری بھلائی میں ہی ہے، یقین رکھو۔تم اس لئے نہیں کرتے کہ تمہیں واپس لوٹایا جائے۔اس وجہ سے واپس لوٹانے کے حصے کو وہاں سے تو ڑ کر الگ بیان کیا ہے۔ایک مزید فائدے کے طور پر بیان کیا ہے کہ اگر تم رضائے باری تعالیٰ کی وجہ سے خرچ کرتے ہو تو پھر اس نیت کو تو داخل کر ہی نہیں سکتے کہ ہمیں واپس مل جائے گا، چلو خرچ کرتے ہیں۔فرمایا رضا تو تمہیں ملے گی اور تمہارے نفس کے لئے بھلائی ہے لیکن ہم تمہیں ضمنا یہ بھی بتاتے ہیں کہ خدا کسی کا مال رکھا نہیں کرتا۔وہ واپس کرتا ہے اور بڑھا کر عطا کرتا ہے۔تُوَفَّ اِلَيْكُمْ تمہارے لئے تمہیں بھر پور طور پر واپس کیا جائے گا وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ اور تم ظلم نہیں کئے جاؤ گے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ آنے پائی کا حساب کر کے جتنا دیا گیا تھا خدا اتناوا پیس کرے گا۔یہ قرآنی محاورہ ہے لَا تُظْلَمُونَ کا مطلب یہ ہے کہ اتنا دے گا کہ ظلم کا تصور بھی قائم نہیں ہوسکتا۔خواب و خیال میں بھی نہیں آ سکتا کہ ظلم ہوا ہے۔اس کثرت سے دے گا اور یہ اصل جزا نہیں ہے۔اصل جزا یہ ہے کہ جب تم رضاء باری تعالیٰ کی خاطر خرچ کرو گے تو تمہارے لئے بھلائی ہی بھلائی پیدا ہو جائے گی، ہر پہلو سے تمہیں برکتیں ملیں گی۔جمع جھونگے میں، مال بھی واپس لوٹا دیا جائے گا۔یہ ویسی ہی بات ہے جیسے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے جب اپنے بھائیوں کو رزق