خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 592 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 592

خطبات طاہر جلد 14 592 خطبہ جمعہ 11 اگست 1995ء میں جن کے نکلنے کی تمنا ہے، وہاں کے حالات سے بے زار ہیں لیکن حالات نے ان کو جکڑ رکھا ہے وہ نکل نہیں سکتے لیکن یہاں جن لوگوں کا ذکر ہے وہ طوعی طور پر خدا کی راہ میں خود اپنے پاؤں میں بیٹریاں ڈالے بیٹھے تھے۔یعنی وہ اصحاب الصفہ جن میں کمانے کی صلاحیتیں موجود تھیں محض اس لئے کہ اللہ کے رسول کی باتیں سنیں ، دین کی خدمت کریں وہ مسجد کے ہورہے تھے اور مسجد کے تھڑوں پر بیٹھ کر انہوں نے باقی زندگی بسر کی۔تو فرمایا جن کو خدا کی رضا کی چاہت ہے وہ خدا کی خاطر ان لوگوں پر خرچ کرتے ہیں جن کو استطاعت تو تھی کہ ان کی طرح باہر نکل کر دنیا کمائیں لیکن طاقت کے باوجود نہیں کمائی۔یعنی محض بے چارگی کا نام غربت نہیں ہے وہاں بلکہ چارے کے باوجود جوخدا کی خاطر غریب ہوئے اگر ان کو دو گے تو سب سے زیادہ اللہ تم سے راضی ہوگا۔پس مومنوں میں اہل مدینہ میں ، انصار میں کثرت سے یہ رواج تھا کہ تحائف لے کر ان غریبوں کے پاس پہنچتے تھے اور رات کو بھی چھپ کر آتے تھے، دن کو بھی دیتے تھے اور آنحضرت می ﷺ کی خدمت میں جو بھی تحائف پہنچتے تھے آپ ان کا حصہ رکھتے تھے لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أَحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ اب یہ جو فقرہ ہے لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان میں طاقت ہی نہیں باہر نکلنے کی مگر یہ آیت چونکہ وسیع مضمون سے تعلق رکھتی ہے یعنی اس آیت کا وسیع مضمون ہے۔اس لئے یہ پہلو بھی درست ہے کچھ ایسے بھی تھے جو مکہ میں گھیرے گئے ان میں طاقت ہی نہیں تھی کہ باہر نکلیں۔کچھ ایسے بھی تھے جو محبت الہی اور محبت رسول میں ایسے جکڑے گئے تھے کہ ان میں طاقت نہیں تھی یعنی چاہتے بھی ، مجبور بھی ہوتے ، چاہتے تھے ہی نہیں ، مجبور بھی ہو جاتے فاقہ کشی میں تب بھی نکل نہیں سکتے تھے۔حضرت ابوھریرہ کی مثال ان میں سے ہے۔ان سے جب پوچھا گیا کہ تم یہاں کے کیوں ہو رہے۔تو انہوں نے کہا کہ دراصل میری بڑی عمر اسلام سے باہر کئی بلکہ دشمنی میں بھی کئی۔اب تھوڑے سال رہ گئے ہیں کیسے ممکن ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی صحبت کے بغیر میں زندگی گزاروں۔ناممکن ہے۔اب تو ایک ایک لمحہ مجھے یہیں اس دروازے پر خرچ کرنا ہے۔کیا پتا کس وقت محمد رسول صلى الله اللہ ﷺ کا چاند ظاہر ہوتا ہے، آپ کا سورج نکلتا ہے ان دروازوں سے جو مسجد کے ساتھ ملحق تھے،مسجد