خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 588
خطبات طاہر جلد 14 588 خطبہ جمعہ 11 اگست 1995 ء گھنٹے کے لئے شام کو، اس وقت یہ خطبہ پھر سنایا جائے گا۔تو کچھ لوگ تو ابھی سن رہے ہوں گے کچھ انشاء اللہ اس وقت شامل ہو جائیں گے۔وہ آیات جن کی میں نے تلاوت کی تھی ، پہلی آیت ہے لَيْسَ عَلَيْكَ هُدُهُمُ وَلَكِنَّ اللهَ يَهْدِى مَنْ يَشَاءُ - عَلَيْكَ سے مراد محمد رسول اللہ علے ہیں۔یعنی نام محمد کیا تو نہیں مگر ظاہر فرما دیا گیا کہ تو اے محمد ان کو ہدایت نہیں دے سکتا۔وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَّشَاءُ لیکن اللہ ہی ہے جو جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔پس ہم جو دنیا کو ہدایت دینے کے لئے نکلے ہیں یاد رکھیں کہ جب تک اللہ کا فضل ساتھ نہ ہو، اللہ کی تقدیر ہمارے ساتھ نہ چلے کہ ہم نے ہدایت دینی ہے اس وقت تک ہم کسی کو ہدایت نہیں دے سکتے۔آنحضرت ﷺ کی ہدایت کی صلاحیتیں اللہ کے اذن کے ساتھ وابستہ تھیں اور چونکہ آپ کا ارادہ اللہ کے ارادے میں مدغم ہو گیا تھا اس لئے بظاہر آپ ہدایت دے رہے تھے مگر اللہ ہی ہدایت دے رہا تھا۔اس مضمون کو کھولا گیا ہے کہ لوگ کہیں ایک شرک خفی میں مبتلا نہ ہو جائیں۔محمد رسول اللہ ﷺ کی تمام تر عظمتیں اللہ کی ذات کے ساتھ ہم آہنگ ہونے میں تھیں اور اسی میں رہیں گی اور چونکہ آپ نے کلیہ اپنے وجود کو خدا کے تابع فرمالیا یہاں تک کہ آپ کی آواز خدا کی آواز کہلائی اس لئے آپ ہدایت دیتے ہوئے دکھائی دینے لگے۔مگر دراصل یہ امر یقینی ہے کہ کسی کو کسی کے دل میں کوئی اختیار نہیں۔اگر یہ اختیار ہوتا تو ابو جہل کو کیوں محمد رسول اللہ نے ہدایت نہ دے دی۔وہ دو جن کی تمنا تھی کہ وہ ہدایت پا جائیں ان میں ابو جہل بھی تو تھا۔تو یہ بتا رہا ہے کہ کسی پاک رسول کی پاک توجہ ہی کافی نہیں جب تک خدا تعالیٰ کا فیصلہ شامل نہ ہو جائے اور اس بیان میں نعوذ باللہ من ذالک، رسول اللہ ﷺ کی تخفیف ہرگز مراد نہیں بلکہ ہمارے لئے گہر اسبق ہے۔وہ سبق یہ ہے کہ اگر ہدایت میں بندوں کے سپرد کر دیتا کہ اپنی مرضی سے دیں تو بعض ایسے جھوٹے بھی ہدایت پا جاتے جو اس لائق ہی نہیں ہیں کہ وہ ہدایت پائیں۔وہ بد بخت لوگ جن کے متعلق خدا یہ فیصلہ کر چکا ہے کہ یہ ضرور سزا پائیں گے۔اگر بندوں کی خواہش ہوتی تو محمد رسول اللہ تو ابو جہل کو بھی ہدایت دینا چاہتے تھے۔پھر تو ہر شخص ہی ہدایت پا جاتا اور اندرونے کا ہمیں کچھ علم نہیں ، انسان اس لحاظ سے بالکل محدود دائرہ علم رکھتا ہے۔وہ جو دیکھ رہا ہے اس کا بھی پورا علم نہیں رکھتا ، جو زائد نہیں دیکھ رہا اس کا اس کو کیا پتا؟ تو ہدایت پانے سے یہاں مراد ہے دین میں شامل ہونا۔