خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 589
خطبات طاہر جلد 14 589 خطبہ جمعہ 11 اگست 1995ء ان لوگوں کو بھی دین میں شامل کر لیا جاتا جو دین کے لئے نقصان دہ ہیں۔گندے لوگ بھی ہماری خواہشوں کے مطابق دین میں شامل ہو جاتے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہدایت دینا میرا کام ہے۔دوسرا اس کا پہلو یہ ہے کہ ہدایت گہرائی تک دینا انسان کے بس کی بات نہیں ہے اور یہ پہلو صلى الله ایک اور لحاظ سے ہمارے سامنے ابھرتا ہے۔کئی لوگ جو بظاہر ہدایت پا گئے اور رسول اللہ ﷺ کے حضور آ کر اقرار کیا کہ تو خدا کا رسول ہے ہم قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ تو خدا کا رسول ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو خدا کا رسول ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں۔تو دائرہ اسلام میں آنے کے باوجود بھی ہدایت نہ پاسکے۔اس لئے صرف دائرے میں داخل ہونا ہدایت کا نام نہیں ہے۔ہدایت گہرا عمل ہے اور اس میں بھی جس کو خدا نے چاہا ہدایت ملی محض قرب محمد رسول الله عله ان منافقوں کی ہدایت کا موجب نہ بن سکا بلکہ بعضوں کے امراض بڑھتے رہے اور یہ ایک طبعی بات ہے۔جب کسی محسن کی ناقدری کی جائے تو گناہ بڑھ جاتا ہے ، نہ کہ انسان ہدایت کے لائق ٹھہرتا ہے۔پس ایسی صورت میں ہادی کے قریب تر ہونا اور اس کا انکار کرنا ہدایت پانے کے برعکس مضمون پیدا کرتا ہے۔جتنا بڑا ہادی، جتنا زیادہ اس کا قرب نصیب ہوا گر دل بد بخت ہے تو پہلے سے زیادہ بد بخت ہو جائے گا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ! ہدایت دینا تیرا کام نہیں ہے، ہمارا کام ہے۔تمنا تیری یہی ہے کہ ساری دنیا کو ہدایت دے دے لیکن اللہ کے بس کی بات ہے اس لئے تو اپنی اس خواہش کو پورا نہیں کرسکتا۔اس کے بعد فرما رہا ہے وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِانْفُسِكُمُ اور جو بھی تم مال خرچ کرو تو خود اپنی ہی خاطر کرو گے۔اب یہ نہیں فرمایا وَ مَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلاَ نْفُسِكُمْ کہ جو کچھ بھی تم مال سے خرچ کرتے ہو اپنی ہی خاطر کرتے ہو یا اپنے نفس کی بھلائی کے لئے کرتے ہو کیونکہ بہت سے انسان ایسے مال خرچ کرتے ہیں جو ان کے لئے نقصان دہ ہیں۔ان کا دین بھی تباہ کر دیتے ہیں ان کی دنیا بھی تباہ کر دیتے ہیں۔کروڑھا آدمی ہیں جو ڈرگ پر خرچ کر رہا ہے اس لئے قرآن کریم یہ فرما ہی نہیں رہا کہ جو کچھ بھی تم خرچ کرتے ہو اپنی بھلائی کے لئے کرتے ہو۔فرماتا ہے وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمُ جو کچھ تم مال خرچ کرو پس وہ تمہارے لئے ہوگا بشر طیکہ اگلی جو آیت ہے اس کو عموماً ترجمہ کرنے والے ان معنوں میں پیش کرتے ہوں جن معنوں میں