خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 569 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 569

خطبات طاہر جلد 14 569 خطبہ جمعہ 4 اگست 1995ء آتے ہیں لیکن بہترین دفاع بردباری ہے۔پس جماعت کو بھی بردباری سے کام لینا چاہئے۔فرماتے ہیں ” ہمارے پاس کوئی ایسا شربت نہیں کہ فورا کسی کے ہاتھ پر ڈال دیں۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه : 518-517) اب ہاتھ پر ڈال دیں اور فورا میں کیا تعلق ہوا۔شربت تو پلایا جاتا ہے مگر اگر افراتفری میں کسی کو پیاس ہو تو ہاتھ آگے کرتا ہے۔کہتے ہیں: ’ پلادےاوک سے ساقی‘‘ تو یہ اوک آگے کی جاتی ہے کہ اتنی جلدی ہے کہ گلاس ڈھونڈنے کا بھی وقت نہیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی فصاحت و بلاغت ایک عجیب مقام پر ہے، حیرت انگیز ہے۔جس سرعت کا مضمون بیان کر رہے ہیں اسی طرح یہ نہیں فرمایا کہ ہم اس کے منہ میں ڈال دیں شربت۔فرمایا اس کے ہاتھ پر ڈال دیں۔اس نے بھی تو جلدی میں ہاتھ آگے کیا ہے اور ہمارے پاس کوئی ایسا نسخہ نہیں کہ فورا اس کو صبر کا شربت پلا دیں۔صبر تو کرتے کرتے آئے گا اور محنت کرنی پڑے گی۔اپنی تربیت کرنی ہوگی ، اپنے آپ کو سلیقہ سکھانا ہوگا اور اس کے لئے انسان اپنی تربیت سب سے اچھی کر سکتا ہے مگر اگر دعا کے ذریعے مدد مانگتا رہے اور اگر دعا کے ذریعے مدد نہ مانگے تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” صبر کرو کہ یہ وقت صبر کا ہے۔جو صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ اسے بڑھاتا ہے۔انتقام کی مثال شراب کی طرح ہے کہ جب تھوڑی تھوڑی پینے لگتا ہے تو بڑھتی جاتی ہے حتی کہ پھر وہ اسے چھوڑ نہیں سکتا اور حد سے بڑھتا ہے اس طرح انتقام لیتے لیتے انسان ظلم کی حد تک پہنچ جاتا ہے ( ملفوظات جلد سوم صفحہ: 354) یعنی وہ شخص بھی جو طبعا ظالم نہ ہو بلکہ متوازن مزاج رکھتا ہو وہ بھی اگر اپنے آپ کو بار بار انتقام کی اجازت دے گا تو انتقام کی آگ خود ایسی ہے جو مزید کا مطالبہ کرتی چلی جاتی ہے۔اس میں جہنم کی وہ صفت ہے هَلْ مِنْ مَّزِيْدِ (ق: 31) کا تقاضا ہے جو انتقام کی آگ سے از خود پیدا ہوتا ہے۔فرمایا تم بڑھو گے پھر اور جب بڑھو گے تو ایک ایسا وقت آئے گا کہ حد اعتدال سے تجاوز کر جاؤ