خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 568 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 568

خطبات طاہر جلد 14 568 خطبہ جمعہ 4 اگست 1995ء اور بردباری کے اندر ایک تعلق بھی پنہاں ہوتا ہے کوئی قابل نفرت چیز ہو اس سے انسان ایسی بردباری نہیں دکھا سکتا جیسی ایسے شخص سے جس سے کوئی تعلق کوئی رشتہ ضرور ہو۔پس تم نے بنی نوع انسان کی ہمدردی کی خاطر ایک کام شروع کیا اس کے رد عمل کے طور پر انہوں نے تکلیفیں پہنچا ئیں۔تو اس طرح دیکھو کہ بے چارے جاہل لوگ ان کو کیا پتا کیا کر رہے ہیں اور وقار کے ساتھ گزر جاؤ۔بردباری کے نتیجے میں تکلیف پہنچانے والے کو تکلیف پہنچتی ہے، یہ ایک طبعی امر ہے اور اسی میں آپ کا جواب بھی ہے، اسی میں آپ کا انتقام بھی ہے۔اس کے بعد پھر صبر آسان ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ بعض لوگ کسی کو گالی دے کر ایذاء رسانی کرنا چاہتے ہیں اس کو غصہ ہی نہیں آ رہا ہوتا۔وہ سمجھتا ہے ہو سکتا ہے دل میں ہو لیکن ظاہر نہیں ہونے دیتا تو اور بھی زیادہ وہ شخص مشتعل ہوتا چلا جاتا ہے۔اس قدر جوش سے بھر کر پھر وہ گالیاں دیتا ہے اور اگلا اگر اسی طرح بردباری کے ساتھ گزر جائے تو آخری نتیجہ یہ ہے کہ گالیاں دینے والا اپنی گالیوں سے زیادہ متاثر ہوا ہے زیادہ عذاب میں مبتلا ہوا ہے بہ نسبت اس کے جس کو گالیاں دی گئیں۔تو بردباری ایک عظیم دفاع ہے۔بعض دفعہ ایک انسان پتھر پہ گولی مارے تو وہی گولی واپس آکر اس کے لئے جان لیوا ہو جاتی ہے۔تو بردباری کرو تا کہ ساتھ ہی تمہارا انتقام بھی ہو لیکن بردباری میں کوئی ہیجان نہیں ہوتا۔ایک جوابی حملہ اور کوئی جوابی حرکت نہیں ہے۔اسی لئے میں نے پتھر کی دیوار سے مثال دی ہے۔پتھر کی دیوار واپس آ کر اس پر حملہ تو نہیں کرتی جیسے جانور کو آپ کچھ کہیں تو وہ آپ پر حملہ کر دے۔وہ اپنے وقار کے ساتھ اسی طرح عظمتوں کا پہاڑ بنے ہوئے کھڑی رہتی ہے اور گولی آتی ہے اس کو لگ کر واپس گولی مارنے والے کی طرف دوڑتی ہے۔تو عموماً بنی نوع انسان کے تعلقات میں اسی طرح کا مضمون ہم دیکھتے ہیں۔ہمیشہ بردبار پر حملہ کرنے والا خود زیادہ تکلیف اٹھاتا ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک بہت ہی قیمتی نسخہ ہمارے ہاتھ میں تھما دیا ہے۔فرمایا: بردباری کا حکم دیتا ہے اسی کے مطابق کرنا چاہئے۔خدا تعالیٰ کے الہامات کی تفہیم بھی یہی ہے کہ بردباری کریں۔۔۔“ پس یہاں صبر سے ہٹ کر ایک اور مضمون جو شروع ہوا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے الہامات کا مفہوم ہے جو آپ بیان فرمارہے ہیں۔صبر کے مواقع بھی آئیں گے ضرور اور