خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 566
خطبات طاہر جلد 14 566 خطبہ جمعہ 4 اگست 1995 ء ملتی ہے کہ دشمن کو تکلیف پہنچتی ہے۔وہ ایذاء رسانی کرتا ہے تو پھر آپ کو صبر کی توفیق ملتی ہے اور شکر اور صبر دونوں ہی بڑی نعمتیں ہیں جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے مضمون کھول دیا ہے، خوب روشن فرما دیا ہے کہ اگر تم شکر کرو تب بھی موجیں ہی موجیں ہیں۔صبر کرو تو وہ بھی بڑی نعمت ہے۔تو مومن تو ہر حال میں کامیاب ہی ہوتا ہے۔اس پر کوئی اندھیرا ایسا نہیں آتا کہ اس کی ترقی کی رفتار رک جائے۔دن کو بھی چلتا ہے، رات کو بھی آگے بڑھتا ہے۔پس اس پہلو سے آپ اپنا باقی وقت شکر کے ساتھ گزاریں اور تیارر ہیں کہ دشمن جو تکلیف پہنچانے کی کوشش کرے گا اس پر لازماً صبر اختیار کرنا ہے اور پھر صبر اور نماز کے ذریعے دشمن کا مقابلہ کرنا ہے اور یہ دو ایسے موثر ہتھیار ہیں جو کبھی نا کام نہیں ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے صبر کے تعلق میں مثال دی ہے: دہلی کی سرزمین بڑی سخت ہے۔“ اب دیکھیں اس کا کیا تعلق ہوا۔صبر جیسی کوئی شے نہیں مگر صبر کرنا بڑا مشکل ہے۔اللہ تعالیٰ اس کی تائید کرتا ہے جو صبر سے کام لے۔دہلی کی سرزمین بڑی سخت ہے۔۔۔“ تعلق یہ ہے کہ تبلیغ میں صبر کے بغیر بات بنتی نہیں۔جس زمین کو تم سخت سمجھ کر چھوڑ دیتے ہو بعض دفعہ اسی میں سے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہری بھری کھیتیاں پھوٹنے لگتی ہیں اور وہی زمین بالآ خر زر خیز ثابت ہوتی ہے۔مثال دتی سے شروع کر کے بات عرب تک پہنچائی۔فرمایا: ”عرب بہت سخت ملک تھا وہ بھی سیدھا ہو گیا۔دہلی تو ایسی سخت نہیں تو آپ نے دنیا میں جہاں جہاں بھی دتی فتح کرنی ہے یاد رکھیں کہ اس سے پہلے خیبر بھی فتح ہوا تھا۔عرب کی سرزمین بھی تو بہت سخت تھی اور بالآخر خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وہ مغلوب ہوگئی اور مومن کے صبر نے وہ زمینیں جیتی ہیں۔پس صبر کے ساتھ اس کا بڑا گہرا تعلق ہے۔اگر تبلیغ میں صبر نہ ہو تو انسان بہت سی فتوحات اور کامیابیوں سے محروم رہ جاتا ہے۔۔۔۔میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ ہماری جماعت کے لوگ کسی پھر فرماتے ہیں: پر حملہ کریں۔۔۔“