خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 565 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 565

خطبات طاہر جلد 14 565 خطبہ جمعہ 4 اگست 1995ء رکھنی چاہئیں۔اول یہ کہ محض صبر جبکہ انسان خدا کا عبادت گزار بندہ نہ ہو کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ایسے صبر کی کوئی قیمت نہیں، اسے کوئی پھل نہیں لگتا۔شاذ کے طور پر بعض خاص حالات میں ایک مظلوم بندے کا صبر مقبول ہو جاتا ہے مگر ایک قاعدہ کلیہ نہیں ہے کہ ہر شخص کا صبر ضرور پھل لائے گا مگر نمازی کا صبر ہے جو پھل لائے گا۔وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَ الصلوۃ پس مدد مانگو صبر کے ذریعے بھی اور صلوٰۃ کے ذریعے بھی اور دوسرا اس کا معنی یہ ہے کہ صلوۃ پر قائم رہو گے تو پھر ہی تمہیں صبر کی توفیق ملے گی۔جو بے نمازی لوگ ہیں انہیں صبر کی توفیق ہی نہیں ملتی کیونکہ نماز پر قائم ہونا خود ایک بڑا صبر ہے۔قرآن کریم نے نماز کو صبر کے ساتھ باندھا ہے کہ نماز کی تلقین کرو وَ اصْطَبِرْ عَلَيْهَا طہ : 132 ) اور اس بات پر صبر کے ساتھ قائم ہو جاؤ۔نماز کا صبر کے ساتھ ایک گہرا رشتہ ہے اور حقیقت میں نماز اسی کو نصیب ہوتی ہے جو صبر کرنے والا ہو۔تو یہ دونوں مضامین ایک دوسرے سے ایک اٹوٹ تعلق رکھتے ہیں جو لازماً جاری رہے گا۔صابر بندے نماز پر بھی قائم ہوتے ہیں اور نماز پر صبر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر حالت میں پڑھتے ہیں، ہر ابتلا میں پڑھتے ہیں۔سخت نیند کی حالت میں بھی اٹھتے ہیں ان کے پہلو بستروں کو چھوڑ دیتے ہیں۔سخت تھکن کی حالت میں بھی نماز پڑھتے ہیں۔دفتروں میں بھی پڑھتے ہیں، دفتروں سے باہر بھی گھروں میں بھی گلیوں میں نما ز آئے تو گلیوں میں جگہ بنالیتے ہیں۔یہ صبر ہے جو نماز کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔تو وہ لوگ جو نماز پر صبر کرتے ہیں وہ جب تکلیفوں پر صبر کرتے ہیں تو پھر نماز کی طرف مزید توجہ پیدا ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ہمیں جب کوئی دکھ کی بات پہنچتی ہے ، کوئی پریشانی کی خبرملتی ہے تو سب سے پہلا کام یہ ہے کہ وضو کیا اور دروازے بند کئے، حجرے کے اور تنہائی میں خدا کے حضور گریہ وزاری کی۔تو قرآن کریم جب فرماتا ہے صبر کرو اور نماز پڑھو وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلوۃ اس کے ذریعے مدد مانگو تو یہ دونوں ایک لازم وملزوم چیز میں ہیں ان پر آپ کو قائم ہونا ہوگا اور باقی دشمن جو کرے گا شرارتیں وہ تو کرے گا ہی۔اگر کامیابیاں نصیب ہوتی ہیں تو اس کی ایک قیمت تو ہمیں دینی پڑے گی یہ تو کامیابیوں کے ساتھ ایک لازمہ ہے۔جہاں آپ کا صبر کامیابیوں کے ساتھ ایک لازمہ ہے وہاں دشمن کی تکلیف آپ کی کامیابیوں کے ساتھ ایک لازمہ ہے۔آپ کو کامیابیوں کے نتیجے میں شکر کی توفیق ملتی ہے اور صبر کی توفیق ملتی ہے۔صبر کی تو فیق اس لئے