خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 564
خطبات طاہر جلد 14 564 خطبہ جمعہ 4 اگست 1995 ء میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ ہماری جماعت کے لوگ کسی پر حملہ کریں یا اخلاق کے برخلاف کوئی کام کریں۔خدا تعالیٰ بُردباری کا حکم دیتا ہے اور اسی کے مطابق کرنا چاہئے۔خدا تعالیٰ کے الہامات کی تفہیم بھی یہی ہے کہ بُردباری کریں۔ہمارے پاس کوئی ایسا شربت نہیں کہ فورا کسی کے ہاتھ پر ڈال دیں۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ: 518-517) اس لئے یہ بہت ہی اہم نصیحت ہے جو جماعت کو اچھی طرح ذہن نشین کرنی چاہئے اور ہضم کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ کو بار بار پڑھنے کی جو نصیحت ہے اس میں یہی بڑی حکمت ہے کہ حضرت اقدس کی تحریریں بہت گہری چلتی ہیں۔ایک ایک لفظ کا انتخاب اللہ کے تصرف کے مطابق ہوتا ہے اور جب تک انسان گہری نظر سے بار بار مطالعہ نہ کرے اس وقت تک صحیح معنوں میں ان تحریروں کا مفہوم پا نہیں سکتا اور نصیحت سے پورا استفادہ نہیں کر سکتا۔جو چند باتیں اس نصیحت میں کی گئی ہیں ان میں سے چند نکات جو میں سمجھتا ہوں نمایاں طور پر آپ کے سامنے لانے ضروری ہیں، وہ میں رکھتا ہوں۔یت تبلیغ کا دور ہے اور خاص طور پر یہ جلسہ عالمی تبلیغ کی عظیم الشان کا میابیوں کا ایک مظہر تھا اور آئندہ جلسے کے لئے ابھی سے ہمیں تیاری کرنا ہے۔اس سلسلے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی یہ نصیحت که مخالفت ہو گی اور شرارتیں ہوں گی ، صبر سے کام لینا ہے،صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا۔زبان میں کسی قسم کی سختی اور تلخی نہ ہو بلکہ پیار اور محبت اور صبر کے ساتھ نصیحت کرتے چلے جاؤ۔یہی وہ نصیحت ہے جس سے سارا قرآن مختلف جگہوں پر بھرا پڑا ہے اور بڑی قوت کے ساتھ قرآن کریم نے اسی نصیحت کو بار بار دہرایا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔صبر جیسی کوئی شے نہیں مگر کرنا بڑا مشکل ہے۔اس لئے صبر کے ساتھ دعا اور عبادت کا مفہوم شامل ہوجاتا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة (البقرہ:45) صبر کے ذریعے مدد مانگو۔اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی ہے تو صبر دکھاؤ اور صبر کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی نصرت تمہارے حق میں جوش مارے گی اور قوت کے ساتھ تمہیں نصیب ہوگی لیکن چونکہ صبر کرنا مشکل ہے اس لئے صلوٰۃ کا ذکر بھی ساتھ فرمایا۔وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَ الصلوۃ اس میں کئی مضامین ہیں مگر اس تعلق میں یہ دو باتیں سامنے