خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 563 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 563

خطبات طاہر جلد 14 563 خطبہ جمعہ 4 اگست 1995ء اس کی رحمتوں کا نزول دن بدن بڑھتا چلا جائے گا اور تکلیف پر صبر کر جاؤ گے تو اس کے نتیجے میں تمہیں پھر ثواب ملے گا، پھر خیر و برکت عطا ہوگی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: صبر بڑا جو ہر ہے۔جو شخص صبر کرنے والا ہوتا ہے اور غصے سے بھر کر نہیں بولتا اس کی تقریرا اپنی نہیں ہوتی بلکہ خدا تعالیٰ اس سے تقریر کراتا ہے۔۔۔“ یہ جو غصے سے بھر کر بولنا ہے یہ عقل و خرد کو کھا جاتا ہے اور کوئی بھی ہوش باقی نہیں رہتی انسان میں۔اس کے کلام میں برکت تو کیا معمولی عقل بھی باقی نہیں رہتی اور ایسا شخص مجنون کی طرح ہو جاتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو فرمایا غصے سے بھر کر بولتا ہے یہ بہت پیارا، بہت فصیح و بلیغ محاورہ ہے۔بہت دفعہ انسان غصے میں کلام کرتا ہے لیکن ساتھ ساتھ صبر کی طنا میں بھی کسے رکھتا ہے۔کوشش کرتا ہے کہ ہر وقت تہذیب و تمدن کے دائرے سے باہر نہ جائے لیکن وہ جو غصے سے بھر کر بولتا ہے اس کے منہ سے سوائے غیظ و غضب اور گندگی اور بکو اس کے کچھ نکلتا ہی نہیں۔فرمایا: ایسا شخص جو غصے سے بھر کر نہیں بولتا اس کی تقریر اپنی نہیں ہوتی بلکہ خدا تعالیٰ اس سے تقریر کرواتا ہے۔جماعت کو چاہئے کہ صبر سے کام لے اور مخالفین کی سختی پر سختی نہ کرے اور گالیوں کے عوض گالی نہ دے۔جو شخص ہمارا مکذب ہے اس پر لازم نہیں کہ وہ ادب کے ساتھ بولے۔۔۔“ فرماتے ہیں جو تکذیب کر رہا ہے اس پر کیوں لازم ہے کہ ہمارا ادب کرے۔تم اپنے ایمان کے زاویے سے دیکھ رہے ہو تمہیں تکلیف پہنچتی ہے۔مگر دشمن، دشمن ہی ہے، جو مجھے خاص طور پر جھوٹا سمجھ رہا ہے وہ تو ویسے ہی آزاد ہے جس طرح چاہے مجھ سے سلوک کرے، جو چاہے مجھے کہے۔”۔۔۔اس کے نمونے آنحضرت ﷺ کی زندگی میں بھی بہت پائے جاتے ہیں۔صبر جیسی کوئی شے نہیں مگر صبر کرنا بڑا مشکل ہے۔اللہ تعالیٰ اس کی تائید کرتا ہے جو صبر سے کام لے۔دہلی کی سرزمین سخت ہے تا ہم سب یکساں نہیں۔کئی آدمی مخفی ہوں گے، جب وقت آئے گا تو وہ خود بخود سمجھ لیں گے۔عرب بہت سخت ملک تھا وہ بھی سیدھا ہو گیا ، دہلی تو ایسی سخت نہیں۔“