خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 561
خطبات طاہر جلد 14 561 خطبہ جمعہ 4 اگست 1995 ء وہ کرتے چلے جائیں گے۔پس یہ نشان چونکہ اپنی ذات، اپنی کوشش، اپنی ذہنی تدبیروں یا چالا کیوں سے نصیب نہیں ہوا کرتا بلکہ تو کل کرنے والوں کو اللہ کی طرف سے عطا ہوتا ہے اس لئے فرمایا وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ چاہیے کہ مومن اللہ ہی پر توکل کریں وَمَا لَنَا أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى الله اور ہمیں ہوا کیا ہے کہ ہم اللہ پر توکل نہ کریں۔وَقَدْ هَدْنَا سُبُلَنَاوه ہمیں بار ہا ہماری ہدایت کے رستے دکھاتا چلا آ رہا ہے، دکھا چکا ہے۔جب بھی کوئی مشکل در پیش ہو، جب بھی ہم دورا ہے پر کھڑے ہوئے اس نے ہمیشہ ہدایت کے رستے ہمیں دکھائے تو وہ خدا آئندہ ہمیں کب چھوڑے گا۔پس جس نے تمام ماضی میں ہمارا ساتھ دیا، ہر مشکل کے وقت ہمارے کام آیا، ہر مشکل فیصلے کے وقت صحیح فیصلے کی توفیق بخشی ہمیں کیا ہو گیا ہے کہ ہم ایسے خدا پر توکل نہ کریں اور یقین نہ رکھیں کہ آئندہ بھی وہ ہم سے ایسا ہی سلوک فرمائے گا۔وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا أَذَيْتُمُونَا ہم ضرور صبر کریں گے، ہرگز صبر کا دامن نہیں چھوڑیں گے۔اس چیز پر جو تم ہمیں تکلیف پہنچاتے ہو۔اب اس سے پتا چلتا ہے کہ صبر کا یہ مضمون پہلے سے ان آیات میں مضمر ہے مومن جب خدا سے انعامات پاتے ہیں اس پر تو کل کرتے ہیں تو جانتے ہیں کہ دشمن نے بہت تکلیفیں پہنچائی تھیں اور ان کا بدنتیجہ نکلنے کاحتمال تھا لیکن کیوں بد نتیجہ نہیں نکلا۔اس لئے کہ ہم نے صبر کیا، خدا نے ہمیں صبر کی توفیق بخشی اور اللہ نے صبر کو قبول فرمالیا اور اس کے نتیجے میں پھر ہمارے صبر آسمان سے ہم پر رحمتوں کی بارشیں بن کر اترے۔یہ مضمون ہے جو پہلے ہی سے ان آیات میں مضمر چلا آ رہا تھا یہاں آ کر کھل گیا ہے۔وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا أَذَيْتُمُونَا اب ہم زیادہ پخته عہد کرتے ہیں پہلے سے بڑھ کر قطعی طور پر فیصلہ کر چکے ہیں کہ جو تم دکھ پہنچاؤ گے ہم اس پر صبر کرتے چلے جائیں گے۔وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكَّلُونَ اور پھر اسی بات پر ، تو کل پر ہی مضمون کو عروج تک پہنچایا ہے۔پس تو کل کے یہ نتیجے ہوا کرتے ہیں ، اسی کو تو کل کہتے ہیں۔صبر کرنا خصوصاً ایسے وقت میں جبکہ صبر کا دامن چھوڑا بھی جاسکتا ہو اس وقت اگر کوئی انسان صبر کرے تو اس کا اجر ضرور اس کو عطا ہوتا ہے اور مومن کو چاہئے کہ ہمیشہ اللہ ہی پر توکل کرتا رہے۔اب میں صبر کے متعلق مزید کچھ باتیں بعض احادیث کے حوالے سے اور بعض حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں سے آپ کے سامنے رکھتا ہوں چونکہ مضمون بہت وسیع