خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 562 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 562

خطبات طاہر جلد 14 562 خطبہ جمعہ 4 اگست 1995 ء ہے، بہت سی آیات کریمہ صبر کے الگ الگ پہلوؤں پر روشنی ڈال رہی ہیں اس لئے اسے ایک لمبا سلسلہ تو بنایا نہیں جاسکتا آج کے خطبے میں انشاء اللہ چند امور پیش کر کے پھر آئندہ دوسرا مضمون شروع کروں گا۔حضرت صہیب بن سنان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے اس کے سارے کام برکت ہی برکت ہیں۔یہ فضل صرف مومن کے لئے مختص ہے۔اگر اس کو کوئی خوشی یا مسرت اور فراخی نصیب ہو تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور اس کی شکر گزاری اس کے لئے مزید خیر و برکت کا موجب بنتی ہے اور اگر اس کو کوئی دکھ اور رنج ہنگی اور نقصان پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے اور اس کا یہ طرز عمل بھی اس کے لئے خیر و برکت ہی کا باعث بنتا ہے کیونکہ وہ صبر کر کے ثواب حاصل کرتا ہے۔اب اس پہلو سے اس جلسے پر اس حدیث کا اس آیت کی روشنی میں دیکھیں کیسا واضح اطلاق ہوتا ہے۔جتنے بھی اللہ نے ہم پر فضل نازل فرمائے ان پر آپ جتنا بھی شکر ادا کریں اتنا ہی کم ہوگا۔پس آئندہ جلسے کی تیاری آج کے شکر سے شروع کر دیں اور مسلسل اللہ کی حمد کے گیت گاتے رہیں، اس کا شکر ادا کرتے رہیں اور یقین جانیں کہ جو کچھ بھی ہوا اسی کے فضل سے ہوا ، اسی کے احسان سے ہوا اور نہ ہم میں ہر گز طاقت نہیں تھی کہ آج کے دور میں یہ عظیم الشان تبدیلیاں رونما کر سکتے ، بر پا کر سکتے جو رونما ہورہی ہیں اور جن کے نتیجے میں دشمن پر ایک حشر بپا ہو چکا ہے۔اس قدر تکلیف میں ہے دشمن، ان پر قیامت ٹوٹی ہوئی ہے اور اس مضمون کا اس پہلو سے اذیت سے تعلق ہے۔جتنے خدا کے فضل بڑھتے ہیں اتنا ہی دشمن پیچ و تاب کھاتا ہے اور اذیت دینے کے نئے منصوبے بناتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس آیت کریمہ میں یہ سمجھایا ہے کہ وہ منصوبے بنائے گا تو یا درکھنا پہلے کب تم اپنی طاقت سے ان کی دشمنی سے بچ سکے تھے۔پہلے کب تم نے ان منصوبوں کو نا کام اور نامراد کیا تھا۔یہ اللہ ہی تھا جس کے فضل سے تم محفوظ رہے، جس نے ان کے منصوبوں کونا مراد کر دیا۔پس اللہ پر توکل رکھنا اور ان کی ایذاء رسانی کا جواب اپنے ہاتھ سے دینے کی کوشش نہ کرنا، یہ معاملہ اللہ کے سپر درہنے دو۔یہی مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ لصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت کو بار بار نصیحت کے ذریعے سمجھایا۔پس آپ فرماتے ہیں شکر کرو گے خدا کی رحمتوں پر تو کثرت سے نعمتیں اور اتریں گی۔