خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 560
خطبات طاہر جلد 14 560 خطبہ جمعہ 4 اگست 1995 ء بھی، سب کا یہ تاثر ایک قدر واحد ہے، سب میں مشترک ہے کہ یہ جلسہ خدا کے خاص فضلوں اور رحمتوں کا نشان بن کر آیا اور ایسا نشان بنا ہے جو آئندہ نسلوں کے لئے بھی ہمیشہ نشان کا کام دے گا۔جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے وہ اسی غرض سے چنی ہیں کیونکہ میں اس سے پہلے صبر کا مضمون بیان کرتا رہا ہوں اور آج بھی صبر ہی کے مضمون پر مزید کچھ کہنا تھا مگر اس آیت کریمہ نے ان دونوں باتوں کو جوڑ دیا ہے اس جلسے کا مضمون اور صبر کا مضمون اکٹھے ہو گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُم ان مخالفوں کو ان کے رسولوں نے کہا اِنْ نَحْنُ إِلَّا بَشَرٌ مثْلُكُمُ ہم بھی تو تمہاری ہی طرح کے انسان ہیں اس سے بڑھ کر تو نہیں وَلكِنَّ اللَّهَ يَمُنُّ عَلَى مَنْ يَشَاءُ یہ اللہ کی شان ہے جس پر چاہتا ہے اس پر احسان فرماتا چلا جاتا ہے۔تم پر کیوں اس کے احسان نہیں ہو رہے یہ مراد ہے ، یہ مفہوم ہے جو اس میں مضمر ہے کہ ہم بھی تو انسان ہیں تم بھی انسان ہو ہمارے پاس کون سی طاقت ہے کہ اللہ سے زبر دستی احسان چھین سکیں۔مگر احسان برستے ہیں تو ہمارے کاندھوں پر ، ہمارے سروں پر بارش ہوتی ہے اور تم خالی بلکہ اس کے برعکس نظارے دیکھ رہے ہو وَلكِنَّ اللهَ يَمُنُّ عَلَى مَنْ يَشَاءُ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اس پر بکثرت احسان فرماتا ہے۔وَمَا كَانَ لَنَا اَنْ نَّأْتِيَكُمْ بِسُلْطَنِ إِلَّا بِإِذْنِ اللهِ اس کے دو معنے ہیں۔مترجمین نے ایک ترجمہ یہ کیا ہے کہ ہم میں یہ طاقت نہیں ہے کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی بھی روشن نشان یا روشن دلیل لاسکیں اور ایک ترجمہ یہ ہے کہ ہم میں کب طاقت تھی کہ اپنے زور سے کوئی بھی روشن نشان اور کوئی غالب دلیل تمہارے سامنے پیش کر سکتے مگر جو کچھ ہوا اللہ کے اذن سے ہوا ہے کیونکہ صرف اللہ ہی کو اختیار ہے کہ وہ چاہے تو کسی کو ایک غلبے والی دلیل یا روشن نشان عطا فرمائے۔تو مجھے تو یہی معنی یہاں موزوں بھی دکھائی دیتا ہے ، ویسے بھی آنحضرت ﷺ اور انبیاء کے حوالوں سے یہی معنی سجتا ہے۔دوسرا بھی درست ہے ایک دائمی حقیقت ہے کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی روشن نشان کسی کو عطا نہیں ہو سکتا۔مگر وَمَا كَانَ لَنا میں جو مفہوم ہے کہ ہو چکا ہے اور ہماری طاقت میں نہیں تھا، نشان تو آیا ہے مگر ہم اپنی طاقت سے نہیں لائے۔وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ اور جو نشان ہیں یہ اتفاقی حادثہ کے طور پر نہیں یہ جاری رہنے والے نشان ہیں اور اللہ پر توکل کے نتیجے میں عطا ہوتے ہیں ہم آئندہ بھی تو کل ہی