خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 51 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 51

خطبات طاہر جلد 14 51 خطبہ جمعہ 20 جنوری 1995ء کے نظام کے استقرار کا ذکر فرمایا ہے اس میں ایسے ہی رسوں کا ذکر فرمایا ہے کہ ایسے ستونوں سے ہم نے ان کو باندھ رکھا ہے یا ان ستونوں پر قائم رکھا ہے تم ان کو دیکھ نہیں سکتے۔تو یہ الہی نظام ہے جس میں پاک لوگوں کی اولادوں کو بھی خدا بالآخر ایسے رسوں سے جکڑ دیتا ہے کہ اپنے مدار سے باہر نکل نہیں سکتے اور یہ دعاؤں کے رسے ہیں بہت دور تک یہ اپنا کام دکھاتے ہیں۔پس اگر وقتی طور پر کسی سے غلطی ہو بھی جائے اور وہ بعض باتوں میں جان کر یا غفلت یا لاعلمی کے نتیجے میں اپنی اولاد کے مفادات کے تقاضے نہ پورے کر سکے تو دعا ئیں اس کا سہارا بن جاتی ہیں اور دعاؤں کے نتیجے میں پھر ایسے بچے ایک حد سے آگے بدکنے کی توفیق نہیں پاتے کیونکہ وہ رسے وہ ہیں جو ہمیں دکھائی نہیں دے رہے مگر موجود ہیں اور یہ دعاؤں کے رسے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک موقع پر اس مضمون کو خوب کھول کر بیان فرمایا آپ سے ایک شکایت کی گئی کہ ایک شخص ہے جو اپنی اولاد پر تربیت کے معاملے میں بہت سختی کرتا ہے، ناواجب سزائیں دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اتنا اس پر ناراض ہوئے کہ شاذ کے طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایسے غصے کی حالت میں دیکھا گیا ہے۔آپ نے فرمایاوہ شرک کرتا ہے، اس کے اختیار میں ہے تربیت کرنا ؟ یعنی جہاں تربیت سے غفلت ہو وہ بھی گناہ ہے لیکن تربیت کو اپنے ہاتھ میں سمجھ لینا چاہے ڈنڈے کے زور سے کی جائے یہ بھی ناجائز اور یہ بھی شرک کے مترادف ہے۔آپ نے فرمایا اس کو چاہئے کہ دعا کرے یعنی اگر تربیت کے بعد جو مناسب حقوق ہیں تربیت کے وہ ادا کرنے کے بعد پھر بھی کچھ کمی رہ جاتی ہے تو وہ خدا نہیں ہے پھر دعا کرے اور پھر دیکھے کہ دعا اثر دکھائے گی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کبھی بھی اپنی تربیت پر بنانہیں کی اس کثرت سے دعائیں کی ہیں بلکہ پیدائش سے بھی پہلے دعائیں شروع کر دیں کہ ان کے نتیجے میں جو کمیاں رہ گئی تھیں اللہ خود پوری کرتا رہا ہے۔بہت سے ایسے ابتلاء کے دور آئے ہوں گے کئی قسم کے ایسے صدمے پہنچے ہوں گے جو دین پر بھی بداثر ڈالتے ہیں مگر خدا نے بچایا ہے اس لئے کہ آپ کی اولاد آپ کی دعاؤں کے حصار میں رہی ہے۔جیسے قلعہ کی فصلیں ہوتی ہیں وہ اندر رہنے والوں کو بچاتی ہیں اس طرح دعائیں بھی بعض دفعہ قلعہ کی دیواریں بن جایا کرتی ہیں اور وہ بھی وہی دیواریں ہیں جو آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتیں لیکن ان کے اثرات ہم نے دیکھے ہیں۔جو چیزیں آنکھ