خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 550
خطبات طاہر جلد 14 550 خطبہ جمعہ 28 / جولائی 1995ء شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيْدٌ تم ایک خدا کے بھیجے ہوئے پر ایمان لے آئے ہو اور اس کے ایمان کے نتیجے میں لازماً تمہیں سزائیں دی جائیں گی اور دی جارہی ہیں اس کے سوا کوئی برائی نہیں جو تم میں دیکھتے ہوں۔اب ان کی دشمنی کی حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمُ تمہیں جو بھی اچھی بات پہنچے ان کو تکلیف دیتی ہے۔اس لئے خواہ تم تبلیغ کر دیا نہ کرو اب ان کی دشمنی کے دائرے سے باہر نکل ہی نہیں سکتے سوائے اس کے کہ اللہ تم پر فضل کرنا چھوڑ دے۔کیا تم یہ پسند کرو گے کہ ان کی دشمنی سے بھاگنے کی خاطر خدا کے فضلوں سے محروم رہ جاؤ اور اللہ آئندہ سے تم پر فضل نازل کرنا بند کر دے، یہ تو نہیں ہوسکتا۔۔فرمایا پس جتنی بھی تمہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے حسنات پہنچتی ہیں نعمتیں عطا ہوتی ہیں اللہ کی طرف سے فضل تم پر نازل ہوتے ہیں، ہر فضل ان کو تکلیف پہنچاتا ہے۔وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌ يَفْرَحُوا بھا اور اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچ جائے، کوئی برائی پہنچے تو اس پر یہ بہت خوش ہوتے ہیں۔اب ایک بات تو خاص طور پر قابل ذکر یہ ہے کہ حَسَنَةٌ کا لفظ بھی بڑا وسیع ہے اور سینے کا بھی۔سيئة سے مراد صرف یہ نہیں ہے کہ کوئی ایسی تکلیف پہنچے جو بدنی طور پر آپ کے لئے نقصان دہ ہو یا مالی طور پر نقصان دہ ہو یا جانی طور پر نقصان دہ ہو۔سی عادات کے بد ہونے کا نام بھی ہے۔اگر آپ نیکیوں سے پھر جائیں، اگر بدیوں کا شکار ہو جائیں تو یہ لوگ بہت خوش ہوں گے۔پس ہجرت کرنے والے بھی اور وہ بھی جو ہجرت سے پہلے ایک معاند ماحول میں زندگی بسر کر رہے ہیں ان کے لئے اس میں بہت بڑی نصیحت ہے کہ تم خدا کی خاطر ایک ایسے راستے پر چل پڑے ہو جہاں خدا کے فضل نازل ہوں گے لیکن ہر فضل غیر کو تمہیں مصیبت پہنچانے پر اور بھی زیادہ اکسائے گا اور ہر فضل کے نتیجے میں ان کی دشمنیاں بڑھتی چلی جائیں گی اور پھر یہ چاہیں گے کہ تم بد ہو جاؤ، تمہارے اندر برائیاں گھر کر جائیں۔ہر قسم کے عیوب جوان میں پائے جاتے ہیں وہ تمہارے اندر بھی دوبارہ داخل ہو جائیں یا اس کے علاوہ اگر کبھی کوئی حادثاتی طور پر تمہیں تکلیف پہنچ جائے تو یہ ساری چیزیں مل کر ان کے لئے خوشیوں کا موجب بنتی ہیں۔اس کا علاج کیا ہے۔فرمایا