خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 551
خطبات طاہر جلد 14 551 خطبہ جمعہ 28 جولائی 1995ء وَ اِنْ تَصْبِرُوا اگر تم صبر سے کام لو وَ تَتَّقُوا اور تقویٰ اختیار کرو۔صبر سے کام لو تو واضح ہے۔تقویٰ اختیار کرو، کن معنوں میں؟ یہاں دو پہلو ہیں جن کا ذکر کھول کر کرنا ضروری ہے کیونکہ وعدہ یہ ہے لَا يَضُرُّكُم كَيْدُهُمْ شَیئًا پھر تمہیں ان کی کوئی سکیم، کوئی سازش بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔پس یہ مسئلہ بہت اہم ہے۔کیا کریں ہم کہ دشمن دانتوں میں رہتے ہوئے زبان دانتوں کی ضرب سے ہمیشہ محفوظ رہے۔اپنے دانت بھی بے احتیاطی سے اپنی زبان کو کاٹ جاتے ہیں۔لیکن اگر زبان دشمن دانتوں میں گھری ہوئی ہو پھر اس کا بیچ نکلنا امر محال دکھائی دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے ہم تمہیں ترکیب بتاتے ہیں تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا صبر سے کام لو اور وَتَتَّقُوا کا ایک معنی ہے حتی المقدور احتیاطی تدابیر اختیار کرو اور دوسرا معنی ہے اللہ سے ڈرو غیر اللہ سے نہ ڈرو۔تو فرمایا یہ تم پر شرط ہے کہ ایسے حالات میں صبر کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر ضرور اختیار کرو لیکن دشمن سے ڈرتے ہوئے نہیں بلکہ اللہ سے ڈرتے ہوئے اور محض اسی سے ڈرتے رہو۔اگر تم یہ شرائط پوری کرو گے تو خدا کا وعدہ ہے لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا کہ ان کی کوئی تدبیر، کوئی ترکیب، کوئی سازش تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔اِنَّ اللهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحیط اس لئے کہ خدا ان کے تمام اعمال کا گھیرا کئے ہوئے ہے۔ان کے ارد گرد جوشر پھیل رہے ہیں وہ سب خدا کے گھیرے میں ہیں۔جب تک خدا اس گھیرے کو توڑ کر کسی تک وہ شر پہنچنے نہیں دیتا، ناممکن ہے کہ ان کا شر از خود دوسروں پر پھلانگ سکے اور ان کے اوپر حملہ کر سکے۔پس تم اس گھیرے کے نتیجے میں جو خدا تعالیٰ تمہاری ہی خاطر ان کے گرد باندھے ہوئے ہے اس شر کے دائرے سے باہر رہو گے لیکن صبر سے کام لینا ہے اور تقویٰ اختیار کرنا ہے۔امر واقعہ یہی ہے آپ گردو پیش کے حالات پر نظر ڈال کر دیکھیں کہ ہر دشمن کی سکیم کے گرد خدا نے کچھ گھیرے ڈالے ہوئے ہیں ورنہ وہ چاہتے تو بہت کچھ ہیں۔ان کے دل کے بغض تو ہر وقت کھولتے ہیں، ایک قسم کی جہنم میں مبتلا لوگ ہیں اور ہر وقت احمدیت کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کا شر اچھل کر باہر نہیں نکلتا۔نکلتا ہے تو بہت تھوڑا اور بہت معمولی سا ابتلاء پیدا کرتا ہے اس کی بھی الگ حکمت ہے اور اس نقصان کو بھی اللہ تعالیٰ پیش نظر رکھتے ہوئے فرمارہا ہے کہ تمہیں کوئی حقیقی نقصان نہیں پہنچ سکے گا۔شیئًا سے مراد یہ نہیں ہے کہ ذرہ بھر بھی۔ذرہ بھر نقصان سے