خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 548
خطبات طاہر جلد 14 548 خطبہ جمعہ 28 جولائی 1995ء واپس بلایا اور جب دیکھا کہ اس کی کا یا بیٹی ہوئی ہے یہ تو پانچ وقت کا نمازی بن گیا ہے، تہجد گزار ہے تو اس نے اپنے باقی بچوں کو بھی سمجھایا کہ تم کیا کر رہے ہو، کس کی دشمنی کر رہے ہو، یہ تو پہلے سے بہت بہتر ہو گیا ہے اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے پھر سارے گھر کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا ہوئی۔توهُمُ الْفَائِزُونَ کا یہ مضمون ہے جو آئندہ تو جاری ہوگا، اس دنیا میں بھی جاری ہوتا ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو غلبے کی صلاحیتیں رکھتے ہیں۔ان کے خمیر میں غالب آنا رکھا گیا ہے۔پس دعوت الی اللہ کریں تو ایسے خدا کے کامل عاجز بندے بنا ئیں جن کا سرخدا کے حضور ہمیشہ جھکا رہے لیکن غیر اللہ کے سامنے سر جھکانا وہ نہ جانتے ہوں۔ان کے ضمیر کے خلاف، ان کے خمیر کے خلاف یہ بات ہو جو خدا کے سوا کسی کے سامنے سر جھکا دیں۔ضروران کو سرفراز کیا جائے گا اور ضرور یہی ہیں جنہیں ہمیشہ سرفراز کیا جاتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُوا (النحل : 111) پھر ایسے بھی لوگ ہیں تم میں سے جنہوں نے ہجرت کی بعد اس کے کہ ان کو مصیبتوں میں مبتلا کیا گیا بعد اس کے کہ ان کو مخالفت کے عذاب میں بھونا گیا۔فُتِنُوا کا ایک یہ بھی مطلب ہے آگ پر بھونا اور ابتلا میں ڈالنا بھی فتن “ کا مطلب ہے تو آزمائشوں میں ڈالے گئے اور دردناک عذاب پر بھونے گئے۔اس کے نتیجے میں انہوں نے ہجرت اختیار کی۔مگر ہجرت کس چیز سے کس کی طرف اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر ہی کی طرف ہجرت کی اور اب ان باتوں کو چھوڑا نہیں جن کے نتیجے میں ان پر ابتلاء آتا تھا۔ایک بہت ہی پیارا مضمون ہے جس کو دیکھ کر انسان کی روح اس پر نچھاور ہونے لگتی ہے۔فرمایا میری راہ میں ہجرت کرنے والے ان پاک عادات سے نہیں بھاگتے جن عادات کے نتیجے میں ان پر مصیبتیں توڑی جاتی ہیں۔اس لئے ہجرت کے باوجود ان کو بزدل نہیں کہا جا سکتا۔جن خصائل کی وجہ سے، جن عادات کی وجہ سے، جس دعوت الی اللہ کی وجہ سے ان کو پہلے آزمایا گیا تھا، پہلے مشکلات میں ڈالا گیا تھا۔جب ہجرت کرتے ہیں تو پھر انہی باتوں کی تکرار کرتے ہیں۔فرمایا ثُمَّ جَهَدُوا وَصَبَرُوا (النحل : 111) نکالے گئے تھے، گھر چھوڑنے پڑے تھے ، ان مصیبتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پھر جب باہر نکلے پھر وہی کام شروع کر دیا۔ایک