خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 547 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 547

خطبات طاہر جلد 14 547 خطبہ جمعہ 28 جولائی 1995 ء جو کنگال ہو گئے جو گھروں سے نکالے گئے ، جائیدادوں سے عاق کئے گئے اور اس کے باوجود وہ اللہ کے فضل کے ساتھ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے ، اپنے درد کے تذکرے اگر کرتے بھی ہیں تو کسی لالچ یامدد کی تمنا کی توقع کے ساتھ نہیں۔بسا اوقات ایسا ہوا ہے کہ جب کسی نو مبائع نے اپنے دردناک حالات مجھے لکھے تو باوجود اس کے کہ اس نے کچھ مانگا نہیں تھا میں نے اس کے نتیجے میں جماعت کو ہدایت کی کہ فوری طور پر رابطہ کریں اور جس حد تک بھی ممکن ہے ان کی مدد کریں۔تو جواب آیا کہ انہوں نے جواباًیہ کہا ہے کہ ہم شکر یہ ادا کرتے ہیں ہم نے تو محض دعا کی خاطر لکھا تھا مگر ہمیں دنیا میں کسی کی ضرورت نہیں ہم خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے جیسی روکھی سوکھی مہیا ہوئی وہی کھا کر گزارہ کریں گے مگر ہم کسی سے دنیا میں مدد کے محتاج نہیں ہیں، نہ ایسی مدد قبول کریں گے۔پس بڑے عزت والے لوگ ہیں، بڑے سر بلند انسان ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا کے حضور سر بلندی عطا کی جاتی ہے، جو خدا کے سامنے جھکتے ہیں اور غیر اللہ کے سامنے نہیں جھکتے۔وہ اپنوں کے سامنے بھی سر جھکانے سے حیا محسوس کرتے ہیں۔انہی کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنّى جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوا آج کے دن ان کی جزا مجھے پر ہے اور میں ہی جزا دوں گا کیونکہ انہوں نے صبر کے حیرت انگیز نمونے دکھائے۔أَنَّهُمْ هُمُ الْفَابِزُونَ اور یہی وہ گروہ ہے جو دراصل غالب آیا۔کرتا ہے۔پس نو مبائعین میں اگر ایسے لوگوں کی تعداد بڑھے جو تبلیغ کرنے والا ان کو سمجھاتا رہے شروع سے آخر تک کہ جس خدا کی خاطر تم نے ہدایت کو قبول کیا ہے وہ خدا اب تمہارا ذمہ دار ہے اور اس کے سوا کسی اور کی طرف نظر نہ کرنا۔اگر یہ سمجھا کر اس کو آخری فیصلہ کرتے ہوئے بیعت پر آمادہ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ وہ گروہ ہے جو پھر غالب آنے والا ہے۔ایسے نئے بیعت کرنے والے کثرت سے دوسروں کی بیعت کرواتے ہیں اور اپنے سارے ماحول کو تبدیل کر دیا کرتے ہیں اور اس کی بھی بہت سی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔شروع میں تکلیفیں اٹھا ئیں، ثابت قدم رہے مگر کچھ عرصے کے بعد اللہ تعالیٰ نے دن بدلنے شروع کئے۔ابھی دودن پہلے ایک خط اسی موضوع پر ملا جس میں بتایا گیا تھا کہ ایک نوجوان نے جب بیعت کی ہے تو اس کو مارا کوٹا گیا ، پہلے گھر میں بند رکھا پھر جب وہ بالآخر رہائی پا کر باہر نکلا تو ہر قسم کی مصیبتیں اس نے برداشت کیں۔مزدوریاں کیں لیکن اپنے پاؤں پر کھڑا رہا۔بالآخر اس کی ماں کا دل پسیجا اس نے