خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 545 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 545

خطبات طاہر جلد 14 545 خطبہ جمعہ 28 جولائی 1995ء اور مجھ پر دباؤ ہے کہ میں اپنی انا تو ڑ کر اس کے سامنے جھک جاؤں، اس کی طرف صلح کا ہاتھ بڑھاؤں۔تو بڑے دکھ کا معاملہ ہے اس کے دل کی کیفیت میں اپنے ذہن کو منتقل کر کے دیکھیں تو بعض دفعہ اس پر شدید ابتلاء آ جاتا ہے جو آخر وقت تک اپنے آپ کو سچا سمجھ رہا ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے واصبر و امبر سے کام لو، صبر ہی ان باتوں کا علاج ہے اور جو اللہ کی خاطر صبر کرتا ہے اس کا اجر اللہ پر ہے۔پس یہ نقصان کا سودا نہیں۔دنیا کی نظر میں برادری کی نظر میں اگر کچھ انسان خفت بھی محسوس کرے مگر اگر رضاء باری تعالیٰ کی خاطر ہے تو اللہ اس کا اتنا اجر عطا فرمائے گا کہ آپ کی نسلیں بھی ان فضلوں کو سنبھال نہیں سکیں گی۔پس صبر کے رستے پر ہی اللہ کی رضا ہے اسی رستے پر صبر کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں۔پھر دوسری آیت کریمہ جو میں نے آج کے مضمون کے لئے چینی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّهُ كَانَ فَرِيقٌ مِنْ عِبَادِي يَقُولُونَ رَبَّنَا أَمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَ أَنْتَ خَيْرُ الرَّحِمِينَ فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِيَّا حَتَّى اَنْسَوَّكُمْ ذِكْرِى وَكُنْتُمْ مِنْهُمْ تَضْحَكُونَ إِنِّى جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوا أَنَّهُمْ هُمُ الْفَابِرُونَ (المومنون: 112110) پس دعوت الی اللہ کرنے والوں کے لئے بھی صبر کی ضرورت ہے۔دعوت الی اللہ کی تیاری کے لئے صبر کی ضرورت ہے اور دعوت الی اللہ کے نتیجے میں جولوگ ہدایت کا فیض پاتے ہیں وہ بھی صبر پر گامزن ہوں تو وہ آسمانی فیوض کو حاصل کرتے ہیں ورنہ ان کی دنیاوی کوشش اور جد و جہد اور خدا کی خاطر تکلیف اٹھانا اگر صبر سے عاری ہو جائے تو وہ اپنے پھلوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔پس آنے والوں کے لئے بھی نصیحت ہے کیونکہ ہر نیا آنے والا جو اللہ کی آواز پر لبیک کہتا ہے وہ لازماً ایک ابتلاء کے دور سے گزارا جاتا ہے اور خدا کی تقدیر یہی ہے کہ دعوت الی اللہ کے ساتھ ابتلاء بھی پھیلتے چلے جائیں اور دعوت الی اللہ کے نتیجے میں آنے والوں کو بعض دفعہ اپنے سامنے آگ دکھائی دے اس آگ میں سے گزریں تو پھر وہ جنت تک پہنچ سکتے ہیں۔ایسی صورت میں بھی کون سا ذریعہ ہے جسے اختیار کریں تو اس اعلیٰ مقصد کو حاصل کر لیں۔اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنّى جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوا میں نے انہیں آج کے دن جزا دی ہے اس وجہ سے کہ