خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 544 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 544

خطبات طاہر جلد 14 544 خطبہ جمعہ 28 جولائی 1995ء محمد رسول اللہ اللہ کے نام پر اللہ کے نام کے اوپر ان سے انکار ممکن نہیں رہا وہاں بسا اوقات یہ بھی ہوا کہ ان لوگوں نے سب جھگڑے بھلا دیئے ، یہ بحث ترک کر دی اور خدا تعالیٰ کے فضل سے پھر وہ یک جان ہو گئے۔پس اس آیت کے ہر حصے کا ہر دوسرے حصے سے گہرا تعلق ہے اللہ اور رسول کی اطاعت کے بغیر یک جہتی نصیب نہیں ہو سکتی۔وہ وحدت نصیب نہیں ہو سکتی جس کے بغیر آپ کبھی بھی غیر اللہ سے مقابلے نہیں کر سکتے ، اس وحدت کے بغیر آپ میں طاقت ہی نہیں کہ آپ غیر اللہ سے مقابلہ کر سکیں اور یہی آج خصوصیت سے بعض جماعتوں میں بلا بنی ہوئی ہے کہ سالہا سال کی نصیحتوں کے باوجودان کی بحثیں، ان کے جھگڑے ختم نہیں ہوتے لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اگر ایک فریق کو کاٹ کر الگ کر دینا پڑے تو اب میں اس سے گریز نہیں کروں گا کیونکہ آج وہ دور آچکا ہے ہم اس زمانے میں داخل ہو چکے ہیں جبکہ دعوت الی اللہ بڑے زور اور شان اور طاقت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔تمام دنیا کے ممالک میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک انقلاب برپا ہورہا ہے۔پس ان چند لوگوں کی خاطر، ان کی دلداریوں کی خاطر کہ ان کے دل نہ ٹوٹیں، نظام جماعت سے الگ ہوکر ان کے دوستوں کو ٹھوکر نہ لگے کب تک ہم جماعتی نقصانات برداشت کرتے رہیں گے۔پس یہ آخری تنبیہہ ہے۔بعض صورتوں میں میں ایسے اقدام کر چکا ہوں اگر چہ میرے دل پر یہ بہت بوجھل ہوتی ہے لیکن باقی جگہ بھی اب وہی جماعت رہے گی جو ایک ہے اور اختلاف آپس میں طے ہوں یا نہ ہوں نظام جماعت کے نمائندے جب آخری فیصلہ کریں گے اگر وہ غلط ہے تو خدا پر ہے کہ وہ خود اس کے نتیجے میں کسی مظلوم کی اشک شوئی فرمائے اور اللہ ہی پر ہے کہ وہ دلوں پر نظر ڈالتا ہے کہ کس نے فیصلے کس نیت سے کئے تھے۔یہ فیصلے پھر خدا کے ہاتھ میں ہوں گے مگر اس دنیا میں بہر حال وحدت کے قیام کی خاطر تمام جماعت کو ایک ملت واحدہ بنانے کے لئے تمام تفریقوں کو مٹانا ہوگا اور یہی نصیحت ہے اس آیت کی اور اس کے متعلق میں پھر عرض کرتا ہوں کہ صبر کے بغیر یہ بات ممکن نہیں۔فیصلوں کے متعلق بھی اگر آپ سر تسلیم خم کرنا چاہیں ، اطاعت پر تیار بھی ہوں تو بسا اوقات دل بہت صدمہ محسوس کرتا ہے۔ایسا شخص جو سمجھ رہا ہو اور یقین رکھتا ہو چاہے اس کا یقین غلط ہی کیوں نہ ہو کہ فلاں نے مجھ پر زیادتی کی تھی اور نظام جماعت کا نمائندہ آیا اس نے فیصلہ اس کے حق میں کر دیا