خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 546 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 546

خطبات طاہر جلد 14 546 خطبہ جمعہ 28 جولائی 1995ء انہوں نے صبر اختیار کیا اَنَّهُمْ هُمُ الْفَائِزُونَ اور یہ تو مقدر ہے، طے شدہ بات ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔پہلی آیات میں جو میں نے تلاوت کیں خدا تعالیٰ نے آنے والوں کی قربانیوں اور ابتلاؤں کا ذکر فرمایا ہے لیکن اس رنگ میں کہ سارا دور انہوں نے دعائیں کرتے گزارا ہے۔اللہ کا فضل چاہتے ہوئے، اسی سے رحم کے طلب گار ہوتے ہوئے مسلسل دعا میں مصروف لوگ تھے جن کے ساتھ زیادتیاں ہوئی ہیں اور چونکہ وہ دعائیں کرتے رہے اللہ سے رحم طلب کرتے رہے اس لئے اللہ ہی نے ان کو صبر کی بھی توفیق عطا فرمائی۔فرماتا ہے میرے بندوں میں سے ایک گروہ ایسا تھا جنہوں نے کہ دیا کہ اللہ ہمارا رب ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے امنا یہ کہہ کر ہم ایمان لے آئے ہیں محض اللہ کو رب سمجھتے ہوئے اسی پر توکل رکھتے ہوئے غیر اللہ کی نفی کرتے ہوئے جو ایمان کی دعوت ہمیں پہنچی ہم نے اس پر لبیک کہہ دیا فَاغْفِرْ لَنَا پس اے ہمارے رب اب ہم سے بخشش کا سلوک فرماؤ ارْحَمْنَا اور ہماری حالت پر رحم فرما وَ اَنْتَ خَيْرُ الرَّحِمِینَ اور تو ہی سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔یہاں نئے آنے والوں کا بخشش طلب کرنا تو سابقہ گناہوں کے تعلق میں ہے۔رحم ان مظالم کے نتیجے میں ہے جو دشمن کر رہا ہے۔ان سے تو رحم کی توقع نہیں دشمن تو مظالم کرتا ہے اور کرتا ہے اور کرتا چلا جائے گا مگر ان کے مظالم کے نتیجے میں اللہ سے رحم مانگا جارہا ہے اور دوسرا یہ بھی اس میں حکمت کی بات سمجھائی گئی ہے کہ نئے آنے والے جب تکلیفوں اور مصیبتوں میں سے گزریں تو لوگوں سے رحم نہ مانگا کریں بلکہ جس کو رب بنایا تھا جس کی خاطر ایمان لائے اسی سے رحم طلب کیا کریں۔اور یہ خاص طور پر آج کے دور میں سمجھانے کے لائق ہے کیونکہ پاکستان میں خصوصیت کے ساتھ جب بھی کوئی احمدی ہوتا ہے اس پر مصیبتوں کا ایک بظاہر نہ ختم ہونے والا دور شروع ہو جاتا ہے، ہر قسم کے ابتلاؤں سے آزمایا جاتا ہے، اس کے اپنے چھوڑ دیتے ہیں ، اس کے دوست، دشمن بن جاتے ہیں، یہاں تک کہ بعض دفعہ بہن بھائی بھی اس کے خون کے پیاسے ہو جاتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں اس نے احمدی ہو کر ہماری ناک کاٹ دی ہے اپنی دنیاوی عزتوں کی خاطر وہ اپنے جگر گوشے کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔یہ وہ مصائب ہیں جن سے کئی لوگ گزرتے ہیں۔کئی ایسے ہیں