خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 530
خطبات طاہر جلد 14 530 خطبہ جمعہ 21 / جولائی 1995ء تھا۔اس کے آغاز میں بھی درحقیقت تو کل ہی کا مضمون ہے۔پس مہمان نوازی اس کی ہوگی جو غیر اللہ کے رزق کی طرف آنکھ اٹھا کے بھی نہیں دیکھتا۔وہ اس رزق کو ہرگز پسند نہیں کرتا جو اللہ کی رضا سے باہر حاصل کیا جائے اور خالصہ اللہ کو اپنا رب بناتا ہے اور اسی پر توکل کرتا ہے۔پس جو مضمون بہت آسان لگ رہا تھا اب جب آگے بڑھتے ہیں تو کچھ مشکل لگنے لگتا ہے مگر اس مشکل کو بھی اللہ ہی حل فرمائے گا۔پہلی آیت کا آغاز اس طرح ہوا ہے۔اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا ( حم سجدہ: 31) وہ لوگ جنہوں نے کہا اللہ ہمارا رب ہے یعنی وہی ہمارا رازق ہے وہی ہمارا پروردگار ہے ، ہماری زندگی کا ہر سہارا اسی سے حاصل ہوگا اور یہ کہہ کر انہوں نے استقامت اختیار کی۔استقامت کے بہت سے مضمون ہیں ان میں ایک مضمون جو اس آیت کے تعلق میں تو کل کے تعلق میں ہے وہ یہ ہے کہ یہ دعوی کرنے کے بعد جب روز مرہ مصیبت پڑے گی ، بھوک ابتلاء لائے گی یا بچوں یا بیویوں کی ضرورت مشکلات پیش کرے گی یا اردگرد کے معاشرے کا رہن سہن طبیعت میں تمنا پیدا کرے گا کہ ہم بھی ایسے ہی ہوں ، ہمارے بچے بھی اسی طرح زندگی بسر کریں اور اس کے باوجود یہ وعدہ یاد آئے گا کہ ہم نے تو یہ عہد کیا تھا کہ ربنا الله صرف اللہ ہمارا رب ہے۔پھر وہ تمام رزق کی لالچوں اور حرصوں کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں، ٹھکرا دیتے ہیں۔کہتے ہیں ربنا اللہ اللہ ہمارا رب ہے یہی تو کل ہے جس کا اس آیت میں بھی ذکر ہے کہ وہ میری ذات پر توکل کرتے ہیں۔ان کی مہمان نوازی میرا فرض ہے اور وہ مہمان نوازی صرف آخرت میں نہیں ہوتی بلکہ اس دنیا ہی میں شروع ہو جاتی ہے۔رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا کہنے والوں کے متعلق فرمایا ایسے فرشتے اترتے ہیں جو کہتے ہیں نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ " وہ کہتے ہیں ہم اس دنیا میں بھی تمہارے ساتھ ہوں گے اور آخرت میں بھی۔وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِيَ أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُونَ ( حم سجده : 32) تو توکل کے نتیجے میں اللہ مددگار بھیجتا ہے اور توکل کی جزاء آخرت ہی میں نہیں بلکہ اس دنیا ہی میں ملنی شروع ہو جاتی ہے۔اور تاریخ اسلام کا مطالعہ کر کے دیکھیں، تاریخ اسلام کے دوسرے دور یعنی احمدیت کا مطالعہ کر کے دیکھیں اتنے نمایاں اور قطعی شواہد ہمیں ملتے ہیں کہ جنہوں نے خدا کی خاطر غیر اللہ کی طرف سے آنے والے رزق سے آنکھیں بند کر لیں بلکہ دیکھا اور ٹھکرا دیا اور ذرہ بھر بھی پروا نہیں کی