خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 531
خطبات طاہر جلد 14 531 خطبہ جمعہ 21 جولائی 1995ء اللہ نے ان کے رزق میں اتنی برکت دی کہ ان کی اولادوں، اولاد کی اولا د اور اولاد کی اولاد کو نسلاً بعد نسل مالا مال کر دیا اور آنے والے بھول بھی گئے کہ ہمیں کیوں رزق عطا ہورہا ہے لیکن درحقیقت خدا کا یہی وعدہ پورا ہورہا تھا کہ تم نے مجھے رب کہا تھا ، میرے ہو رہے تھے، مجھ پر تو کل کیا تھا، اس لئے اب میں تمہارے رزق کا ضامن ہوں اور میں اسے بڑھاتا چلا جاؤں گا۔دنیا میں بھی عطا کروں گا اور آخرت میں بھی عطا کروں گا تو یہ دوسری صفت ہے جو معین ہو گئی۔اب آنے والے اگر ضرورت کے ابتلاء میں پڑ کر قرض مانگتے ہیں، نیت یہ ہوتی ہے کہ واپس ہی نہیں کریں گے یا گر جاتے ہیں اخلاق سے اور ہر کس و ناکس کے سامنے جھولی پھیلانے لگتے ہیں یا یہ نہ بھی کرتے ہوں تو اپنی غربت کے قصے پیش کرنے لگ جاتے ہیں، اپنے حالات دردناک طریق پر بتاتے ہیں، یہ سارے دراصل غیر اللہ سے رزق طلب کرنے کے بہانے ہیں۔بعض لوگ جو اپنے حالات بیان کرتے ہیں حقیقت میں وہ جس کے سامنے بیان کرتے ہیں اس سے دعا مانگ رہے ہوتے ہیں۔یہ انبیاء کی سنت اختیار نہیں کرتے کہ إِنَّمَا أَشْكُوَابَتِي وَحُزْن إلى اللهِ (یوسف: 87) کہ غم تو مجھے بھی ہے تکلیفیں تو مجھے بھی پہنچتی ہیں مگر میں اللہ کے سوا کسی کے سامنے اپنا غم پیش نہیں کرتا، اللہ ہی کے حضور پیش کرتا ہوں۔تو جو تو کل کرنے والے ہیں ان کی ایک یہ یہ بھی صفت ہے جو لازماً ان کے کردار کو عظمت عطا کرتی ہے کہ وہ اپنی غربت کی پردہ پوشی کرتے ہیں ، اپنے داغ دکھاتے نہیں ہیں۔ہاں غربت جو خود دکھائی دینے لگتی ہے۔جہاں جگہ جگہ لگے ہوئے پیوند اپنی کہانی خود بیان کرتے ہیں وہ ایک الگ قصہ ہے مَا ظَهَرَ مِنْهَا ( الانعام: 152 ) جو ہے اس میں بندے کا اختیار نہیں ہے۔مگر رزق حاصل کرنے کی خاطر ، رحم کی توجہ اپنی طرف کھینچنے کے لئے انسان بندوں کے سامنے کوئی بجز اختیار کرے مانگے یا مانگے بغیر اپنے حالات پیش کر دے یہ جائز نہیں ہے۔اس لئے اللہ کرے کہ ان میں کوئی ایک بھی ایسا نہ ہو جس کی نیت میں یہ فتور داخل ہومگر بعض دفعہ آنے والے ایسا کرتے رہے ہیں۔اس لئے میں فرض سمجھتا ہوں کہ سب کو عموماً متنبہ کر دوں۔بعض میرے سامنے آ جاتے ہیں تو وہ ان کو کھلنا اور بات ہے۔امام وقت کے سامنے ضرورتیں پیش کرنا یہ اور مضمون ہے میں ان کو کسی قسم کا متہم نہیں کر رہا، ان پر کوئی اتہام نہیں۔مگرلوگوں کے سامنے مجلسوں میں بیٹھ کر ایسی باتیں کرنے والے جو ہیں ان کی اطلاعیں مجھے پہنچتی رہتی ہیں اور لوگ بتاتے