خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 529
خطبات طاہر جلد 14 529 خطبہ جمعہ 21 / جولائی 1995ء وَرِزْقٌ كَرِیم اور مغفرت ہے اور پھر رزق کریم ہے۔جن لوگوں کی صفات بیان ہوئی ہیں ان صفات پر بھی تو نظر ڈالئے۔اس لئے آنے والے مہمانوں کو بھی وہ صفات اختیار کرنی چاہئیں جو ان کو خدا کی مہمان نوازی کا مستحق بنائیں گی اور جو ان کو مہمان ٹھہراتے ہیں ان کی بھی اس بات پر نظر رہنی چاہئے کہ اگر انہوں نے اللہ کا مہمان بنا ہے اور آخر ضرور بننا ہے ، ان بندوں نے جن سے خدا مغفرت کا سلوک فرمائے گا تو اپنے مہمانوں میں بھی ان صفات کو بڑھانے کی کوشش کریں اور خود اپنے اندر بھی وہ صفات جاری کریں کیونکہ ایک آنے والا مہمان ہر معز شخص کے گھر ٹھہرنے کا اس کی مہمانی قبول کرنے کا خود بخود مستحق نہیں ہوتا۔یہ درست ہے کہ میزبان خواہ کیسا ہی معزز ہو وہ اپنے مہمان کی خاطر جھکتا ضرور ہے اور ایک حد تک اپنے اعلیٰ مقام سے تنزل کر کے نیچے اتر کر اپنے مہمان کی خدمت کرتا ہے، ایک طبعی امر ہے لیکن اس کے باوجود بعض لوگ شایان شان نہیں ہوتے ، اس لائق نہیں ہوتے کہ اس مہمان نوازی کے قابل ہوں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے وہ صفات بیان فرما دیں کہ اگر تم میری مہمان نوازی کے قابل بننا چاہتے ہو تو ان باتوں کا تمہیں خیال رکھنا ہوگا۔اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمُ (الانفال:3) میرے مہمان وہ لوگ ہوں گے، ایسے مومن کہ جب اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے دلوں پر زلزلہ طاری ہو جاتا ہے۔اس قدر ان کے دلوں پر خدا کا رعب چھاتا ہے، ایسی ہیبت طاری ہوتی ہے یا جوش محبت سے وہ تھر تھری لینے لگتے ہیں اور وَجِلَتْ کا لفظی ترجمہ تو خوف ہے لیکن خوف کے نتیجے میں جو چیزیں ظاہر ہوتی ہیں ان کا ذکر کر رہا ہوں۔پس وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ کا مطلب یہ نہیں کہ ڈر گئے ہیں جیسے نعوذ باللہ کسی جانور سے ڈر گئے ہوں۔اللہ کے خوف میں محبت بھی داخل ہے اور رعب بھی داخل ہے۔پس اللہ کے خوف سے یعنی اس کے رعب سے اس کی عظمت کے تصور سے ان کے دل لرزنے لگتے ہیں اور اللہ کی محبت میں ان کے دلوں پر جھر جھری طاری ہو جاتی ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے متعلق فرمایا وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ أَيْتُهُ زَادَتْهُمْ إِيْمَانًا وَ عَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (الانفال: ۳) جب اللہ کی آیات ان پر پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کے ایمان بڑھتے ہیں اور پہلے سے بہتر حالت میں وہ واپس لوٹتے ہیں اور تو کل اللہ پر کرتے ہیں، کسی اور پر تو کل نہیں کرتے۔وہ جو پہلی آیت میں نے پڑھی تھی جس میں نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ کا ذکر