خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 527 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 527

خطبات طاہر جلد 14 527 خطبہ جمعہ 21 جولائی 1995ء وسیع مضمون ہے جس کا ہجرت سے تعلق ہے تو اللہ کی خاطر سفر کرنے والا مہاجر ہوتا ہے۔اللہ کی خاطر ایک بدی ترک کر کے ایک نیکی کی طرف حرکت کرنے والا مہاجر ہوتا ہے۔پس ان معنوں میں جلسے کے دنوں میں آنے والے مہمانوں پر اس آیت کا خصوصیت سے اطلاق ہوتا ہے۔اگر آپ اس خیال سے ان کی مہمان نوازی کریں کہ ان کا سفر اللہ کی خاطر ہے، کوئی دنیاوی غرض نہیں ہے۔کوئی دنیاوی غرض ہوتی تو عام دنوں میں آتے اور اپنی موجیں کر کے واپس چلے جاتے۔یہاں تو آنے والے بعض ایسے ہیں جن کی کوئی تمنا نہیں ہے لندن دیکھنے کی یا انگلستان آنے کی یا یورپ آنے کی۔پیسے جوڑتے ہیں بڑے اخلاص کے ساتھ اور بعض قرض بھی اٹھا لیتے ہیں بعض چیزیں بیچتے ہیں۔صرف یہ تمنا ہے کہ ہم خدا کی خاطر اس جلسے میں شامل ہوں جہاں خلیفہ وقت موجود ہوگا اور وہ جماعت کا ایک نوع کا مرکزی جلسہ ہو گا۔ایسے واقعات کثرت سے سامنے آتے ہیں کہ جب ایمسیسی والے بعض دفعہ لوگوں کو ویزہ نہیں دیتے اس خوف سے کہ کوئی اور وجہ ہوگی تو ان کا جور د عمل ہے وہ ایسا بعض دفعہ نمایاں ہوتا ہے کہ وہ اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں حالانکہ کوئی گواہی نہیں ملتی ، طبیعی رد عمل ان کے دل سے جو اٹھتا ہے وہ پہچان لیتے ہیں کہ ہاں یہ سچا آدمی ہے۔ایک عورت کا ذکر میں نے ایک دفعہ پہلے جلسے میں کیا تھا بوڑھی خاتون ، وہ جب ایمبیسی میں انٹرویو کے لئے گئیں تو چونکہ ان پڑھ تھیں اس لئے ان کو Interpret کرنے والی عورت ساتھ تھیں۔جب اس سے سوال کرنے والے نے پوچھا کہ تم کیوں جارہی ہو۔اس نے کہا ہمارا امام وہاں ہے، بڑی دیر ہوئی دیکھے ہوئے اس لئے میں نے ضرور جانا ہے وہاں اور جلسہ کا موقع ہے، دوسرے بھی آئے ہوں گے اس روحانی ماحول میں میری برسوں کی پیاس بجھے گی اور کوئی مقصد نہیں ہے۔تو ضمناً اس نے کچھ سوال کرنے کے بعد پوچھا تمہارا کوئی رشتے دار بھی ہے وہاں اس علاقے میں۔اس نے کہا ہاں میری بیٹی ہے۔اس نے کہا کب سے ہے۔اس نے کہا بارہ سال سے وہاں ہے۔تو اس نے کہا پھر یہ کیوں نہیں کہتی کہ بیٹی سے ملنے جارہی ہوں۔بے اختیار جو اس عورت کے منہ سے بات نکلی اس نے کہا ” در فٹے منہ یہ ایک اظہار ہے بے اختیار غصے کا ”میری بیٹی بارہ سال توں ہے۔میں تے کدی ویکھیا ای نئیں اس پاسے میں نے تو کبھی اس طرف جانے کا سوچا بھی نہیں تھا، آج مجھے کیا خیال آیا ہے۔اتنا بے اختیار تھا اس کا اظہار، اس کا ترجمہ صحیح ہوا یا نہیں اسی وقت اس افسر نے اس کو