خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 528
خطبات طاہر جلد 14 528 خطبہ جمعہ 21 / جولائی 1995ء ویزا دینے کا فیصلہ کر لیا۔لیہ تو آنے والے اگر اللہ آتے ہیں تو وہ آپ کے مہمان ان معنوں میں بنتے ہیں کہ وہ اللہ کے مہمان ہیں جن کی آپ نے مہمان نوازی کرنی ہے۔اس لئے پہلے سے زیادہ لازم ہے کہ وہ مہمان نوازی کریں جو اللہ اپنے بندوں کی کرتا ہے اور دوسری ضرورت اس لئے بھی پیش آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی ان مہمانوں کی لسٹ میں شامل کر لیا ہے جو خدا کی خاطر اپنے گھروں میں خدا کی خاطر آنے والوں کے لئے جگہ بناتے ہیں، ان کے ساتھ عزت سے پیش آتے ہیں اور ان کی نصرت فرماتے ہیں۔فرمایا میں جن کو ایک مہمان رکھوں گا اس میں یہ سارے شامل ہیں۔آنے والے بھی اور میزبان بھی اور ان سب کے لئے ایک مغفرت کا باب قائم کیا جائے گا۔جو اس دروازے سے گزرے گا وہ بخشا ہوا ہو گا اور اس کے لئے پھر رزق کریم ہی ہے یعنی عزت والی مہمان نوازی جو خدا کی طرف سے اس کے اکرام کا موجب ہوگی۔اب لفظ کریم میں بہت ہی گہر امضمون ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کو کریم کہہ دیا جاتا تو وہ بات نہ بنتی۔رزق کریم نے بتایا کہ خدا کا کرم اس مہمان نوازی کی معرفت اس مہمان کی طرف منتقل ہو رہا ہے اور وہ کریم بن رہا ہے اس لئے بہت ہی بڑا Tribute جس کو کہتے ہیں یا بہت ہی بڑا ایک احسان کرنے کا انداز ہے اللہ تعالیٰ کا جسے، اس محاورے میں ظاہر فرمایا گیا کہ اس کے سامنے رزق کریم پیش ہوگا یعنی جس کو وہ رزق پہنچے گا وہ معزز ہے۔اس کی شان اس میں پائی جائے گی اور جس کی مہمان نوازی اس رنگ میں ہورہی ہوگی اس کے تو بلے بلے۔کیا شان ہے اس کی کہ اللہ کا مہمان بنا ہوا ہے اور رزق کریم پیش کیا جا رہا ہے۔تو آپ اگر ایسا کریں گے تو اللہ وعدہ فرماتا ہے کہ میں تمہیں بھی اس فہرست میں داخل کروں گا جو میری خاطر مہاجر ہجرت کرتے ہیں یا میری خاطر ان کی عزت افزائی کرتے ہیں وہ سب میرے مہمان ہوں گے اور مغفرت اور رزق کریم کا میں ان سے وعدہ کرتا ہوں۔دوسری آیت جس کا میں نے ذکر کیا تھا جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أُولَبِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ دَرَجْتُ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيم ہی وہ لوگ ہیں جو سچے مومن ہیں لَهُمُ دَرَجُتُ عِنْدَ رَبِّهِمُ ان کے لئے ان کے رب کے حضور بڑے بڑے درجات ہیں۔ایک درجہ نہیں ہے صرف بہت سے درجات ہیں۔وَمَغْفِرَةٌ