خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 516
خطبات طاہر جلد 14 مومنوں کے حق میں ہوں گی۔ 516 خطبہ جمعہ 14 جولائی 1995ء پس اس پہلو سے بھی ہمیں صبر کے مضمون میں یعنی انجام کے متعلق بھی صبر کی تلقین سکھلائی گئی ہے۔ فرمایا کہ تو اگر ان کا بد انجام چاہتے ہو اور جلدی کرے تو ، تو کیوں جلدی کرتا ہے۔ جب بد انجام آئے گا تو وہ لمبا زمانہ جو ان کو مہلت کا دیا گیا ہے وہ اس انجام کے سامنے ایسا دکھائی دے گا جیسے آناً فاناً گزر گیا تھا۔ تو جلدی کرنے میں حکمت بھی کوئی نہیں، جو پکڑے جانے والے ہیں جب پکڑے جاتے ہیں تو جس زمانے کو تو سمجھتا ہے کہ اللہ نے بہت لمبی مہلت دے دی ہے وہ تو یوں ان کو گزرتا ہوا دکھائی دیتا ہے جیسا تھا ہی نہیں۔ پس فرماتا ہے كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ یہاں عذاب والے پہلو کو خصوصیت سے بیان فرمایا گیا ہے، پس جب بھی خدا کے وعید کا وقت آئے گا يُوعَدُونَ سے مراد جوان کو وعید دیا جاتا ہے، جس بات سے وہ ڈرائے جاتے ہیں، جب وہ وقت آ جائے گا کیسے ہوں گے لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَّهَارٍ وہ یوں سمجھیں گے وہ یوں اپنے آپ کو پائیں گے گویا وہ دن کی ایک گھڑی سے زیادہ زندہ نہیں رہے یا امن کی حالت میں اور عیش و عشرت کی حالت میں تکبر کی حالت میں اور فخر کی حالت میں ۔ گویا دن کی ایک ساعت سے زیادہ ان کو حصہ نہیں ملا اور جو مزے کے زمانے ہیں جب وہ گزر جاتے ہیں تو وہ تھوڑے تھوڑے لمحے دکھائی دیتے ہیں۔ جو دکھ کے زمانے ہیں وہ بہت لمبے ہو جاتے ہیں اور ایک پل کاٹنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ تو یہ مضمون ہے جو اس بات میں کھول دیا گیا کہ ان کو اگر خدا نے پکڑنا چاہا اگر یہی تقدیر ہوئی خدا کی کہ وہ پکڑے جائیں تو تو دیکھے گا کہ ان کا ایک ایک پل، ایک عذاب کا زمانہ بن جائے گا ۔ اس قدر مصیبت میں مبتلا ہوں گے کہ ان سے وقت نہیں کئے گا اور جب وہ مڑ کر دیکھیں گے تو ان کے ماضی کے عیش و عشرت کے ایام یوں لگیں کہ جیسے آنا فانا ہا تھ سے نکل گئے تو پھر کس بات پہ جلدی کرتا ہے اور وہ شخص جس کی تبلیغ کی بنیا د رحم پر ہو اس وعید کو پڑھنے کے بعد تو اس کا دل بہل جائے گا کہ میں کیوں ان کے انجام کی جلدی کیا کرتا تھا یہ تو بہت ہی قابل رحم حالت ہے۔ پس اس نقشے کو کھینچ کر اگر کوئی معمولی ساتر و د بھی مومنوں کے دل میں باقی رہ گیا تھا تو اسے دور فرما دیا گیا ۔ فرمایا فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَسِقُونَ یعنی جب خدا کے ہیں تو بسا اوقات ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہ قومی عذاب بن جاتے ہیں مگر وہاں ایسی صورت میں